پٹنہ :
بہار سرکار میں نتیش کابینہ کے سماج کلیان وزیر مدن سہنی کے استعفیٰ کی پیشکش کےبعد ریاست میں سیاست گرما گئی ہے۔ افسر شاہی سے ناراض سہنی کی حمایت میں پانچ ایم ایل اے اور ایک وزیر سامنے آئے ہیں ۔ تمام کا کہنا ہے کہ سرکار میں افسر شاہی حاوی ہے ۔
سہنی استعفیٰ دینے پر بضد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کرلیا ہے اور اب پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اس کے لیے انہوں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے آج ملنے کا وقت بھی مانگا تھا۔ سہنی نے جمعہ کو کہا تھا کہ ’نراسفر – پوسٹنگ وزیر کے سطح پر ہونا چاہئے تھا، وہ افسر کررہے ہیں۔ اب اس بے عزتی کے ساتھ وزیر کے عہدے پر رہنا مناسب نہیں ہے۔‘ مدن سہنی نے کہاکہ سرکار میں چند افسروں کو ہی چلتی ہے ۔ وزیر ، ایم ایل اے کی کوئی نہیں سنتا۔ میں استعفیٰ دے رہا ہوں۔ ہمارے ساتھی جن کا دل مضبوط ہے انہیں وزیر نہیں رہنا چاہئے، استعفیٰ دے دینا چاہئے۔
وزیر کی باتوں کا ایم ایل اے گیانیدر سنگھ گیانو ، ہری بھوشن ٹھاکر بچول نے کھل کر حمایت کی ہے ، جمعہ کو بی جے پی ایم ایل اے ڈاکٹر متھلیش کمار، ارون شنکر پرساد اور جے ڈی یو کے ڈاکٹر سنجے کمار بھی سہنی کے حق میں آگئے ہیں۔
جمعہ کے روز پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے وزیر رامپریت پاسوان نے کہا کہ سہنی صحیح بول رہے ہیں۔ کسی بھی وزیر کی عزت اور وقارکے مجروح ہونے پر ایسا کرنا فطری ہے۔ پاسوان نے کہا کہ ’’ کچھ عہدیداروں من مانی کرتے ہیں، اس سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے۔ ہم شروع سے کہتے رہے ہیں کہ وزیر بڑاہوتا ہے نہ کہ سکریٹری ۔
بی جے پی کے ایم ایل اے متھلیش نے کہا ،’’عہدے سے بڑا اصول ہوتا ہے ۔سہنی کے قربانی کے جذبے کو میں سلام کرتا ہوں۔ وزیر نے جو مدعا اٹھا یا ہے اس کی جانچ ہونی چاہئے۔‘ وہیں ایک اور بی جے پی ایم ایل اے ارون شنکر نے کہا ’ ایم ایل اے کے احترام میں کچھ افسروں کا تکبر آڑے آرہا ہے ۔ مدن سہنی کی باتیں صحیح ہے، تو یہ بہت تکلیف دہ ہے۔‘
ایم ایل اے گیانیندر سنگھ گیانو نے نتیش کے وزرا ءپر ٹرانسفر پوسٹنگ کے ذریعے کروڑوں کی کمائی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے 80 فیصد وزراء نے رشوت لی ہے۔ گیانو نے کہا کہ اگر وزرا ءکے گھروں پر چھاپے مارے گئے تو کروڑوں روپے برآمد ہوسکتے ہیں۔ ٹرانسفر پوسٹنگ کے لیے کھل کر پیسہ لیا گیا ہے اور ایک ایک افسر کو 5-5 بار فون کیا گیا کہ آپ آئیے، پیسہ دیجئے تب آپ کا ٹرانسفر ہوگا۔ گیانیندر سنگھ گیانو نے کہا کہ سی ایم کے پرنسپل سکریٹری کو سیاسی طور پر سوچنے والا ہونا چاہئے۔ افسر مزاج والے لوگوں کے ساتھ بات چیت صحیح طور پر بڑھ نہیں پاتی۔
ہری بھوشن بچول نے کہا کہ ممبران اسمبلی کی حالت چپراسی سے بھی بدتر ہو گئی ہے ۔ کوئی نہیں سنتا۔ بلاک میں بدعنوانی ہے ۔ شکایت کرنے پر کارروائی نہیں ہوتی۔ افسر سنتے نہیں۔ اپنے حلقے کے مسائل لے کر آخر ایم ایل اے کہاں جائے۔؟ ایم ایل اے اپنے حلقے کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ لوگ ان کے پاس شکایت لے کر آتے ہیں۔ ایم ایل اے کا فرض ہے کہ وہ اسے حل کریں۔ ہم حکم کیا دیں گے ،اپیل بھی نہیں کر سکتے۔ایم ایل اے کی عزت و وقار داؤ پر ہے ۔‘










