لکھنؤ:
الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے مسجد انہدام معاملے میں بارہ بنکی کے رام سنیہی گھاٹ تھانہ انچارج سچانند رائے کو بادی النظر میں عدالت کے حکم کی حلاف ورزی کرنے کامرتکب پایا اور انہیں اپنا جواب داخل کرنے کے لیے نوٹس جاری کیا۔ اس معاملے میں سماعت کی اگلی تاریخ 22 جولائی مقرر کی ہے ۔
حالانکہ عدالت نے رام سنیہی گھاٹ کے اس وقت کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ایس ڈی ) دیویانشو پٹیل کو کلین چٹ دے دی ہے ۔
یہ حکم جسٹس روی ناتھ تلہری کی سنگل بنچ نےلکھنؤ کی ٹیلی والی مسجد کے معاون واصف حسن اور ڈھائی گئی مسجد میں نماز ادا کرنے والے ایک اور عرضی گزار کی جانب سے داخل توہین عدالت کی عرضی پر ویڈیو کانفرنسنگ سے سماعت کرتےہوئے 30 جون کو جاری کیا اور اس کی کاپی جمعہ کو ہائی کورٹ کے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں کی دلیل رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا ہے کہ اترپردیش میں کووڈ بحران کے پیش نظر الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک مفاد عامہ کی عرضی پر 24 اپریل 2021 کو تمام عدالتوں اور ٹریبونلز کو ہدایت دی گئی تھی کہ جن معاملوں میں کسی تعمیر کو گرانے کا حکم دیا گیا ہے اس پر 31 مئی 2021 تک عمل نہ کریں ۔









