مارک ٹیلی
مارک ٹیلی نے ہندوستان ٹائمز میں لکھتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہاراؤ کی 100 ویں یوم پیدائش گزشتہ ہفتہ گزر گئی ۔ بمشکل پارٹی یہ جشن مناتی ہوئی نظر آئی۔ نہرو- گاندھی پریوار کے علاوہ پورے پانچ سال وزیر اعظم رہنے والے اکلوتے شخص رہے تھے پی وی نرسمہاراؤ ۔ ایک سینئر کانگریسی لیڈر کے مطابق راؤ پارٹی کی تاریخ سے اس لئے مٹا دئے گئے کیونکہ سونیا گاندھی مانتی ہیں کہ انہوں نے راجیو گاندھی کی موت کے معاملے کی جانچ کے لیے مناسب کوششیں نہیں کیں۔ ٹیلی لکھتے ہیں کہ راؤ کو یہ نظراندازکیاجانا ناانصافی ہے ۔ انہوں نے بھارت کو لائسنس -پرمٹ ریاست سے آزادی دلائی ۔ سوویت یونین کے تحلیل کےبعد سیاسی پالیسی ہچکچاہٹ سے انہوں نے ملک کو آزاد کیا۔ ایک اقلیت کی حکومت کو بہترین طریقے سے چلایا ،حالانکہ 5 سال کا راؤ کادور حکومت کانگریس کی بربادی کی وجہ بھی بنی۔ 1996 میں کانگریس سے بڑی پارٹی بنکر بی جےپی ابھری ۔
مارک ٹیلی لکھتے ہیں کہ راجیو گاندھی کی موت کے افسوسناک واقعے کے بعد جب سونیا گاندھی نے قیادت سنبھالنے سے انکار کردیا تھا، کانگریس کے پاس سنہریٰ موقع تھاکہ وہ نسل پرستی سے باہر نکل کر قیادت کی تلاش کرتی ، اس کے بجائے پارٹی نے راؤ کا انتخاب کیا، جن کی پارٹی میں پکڑ نہیں تھی اور ان میں ووٹ حاصل کرنے کا کرشمہ نہیں تھا،لیکن راؤ اقلیت کی سرکار چلانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
کانگریس نے اگر پورے دل سے ان کی تائید کی ہوتی تو وہ نسل پرستی سے باہر نکل سکتی تھی۔ مارک ٹیلی لکھتے ہیں کہ ارجن سنگھ جیسےلیڈر وں نے بابری مسجدشہید کئے جانے کے واقعہ کے بہانے سیکولرازم کو نظر انداز کرنے کے خلاف مورچہ کھول دیا۔ سونیا گاندھی کو راؤ کے خلاف کھڑا کرنےمیں ان کابڑا کردار تھا، حالانکہ راؤ خود بھی اپنی ناکامیوں کے لیے ذمہ دار تھے۔ گزشتہ 25 سال میں کانگریس دو بار اقتدار میںرہی لیکن سرکار پر سونیا گاندھی کا اثر رہا ۔2014میں ذلت آمیز شکست ہوئی۔ آج جن ریاستوں میں کانگریس برسر اقتدار ہے ، وہاں لیڈر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ نسل پرستی کا کرشمہ تو ختم ہو چکا ہے لیکن غیر نسل پرستی لیڈروں کے ابھرنے کے اشارے بھی مل نہیں مل رہے ہیں۔










