نئی دہلی :
سنگھ سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت کا بیان، فرقہ وارانہ تشدد اور ماب لنچنگ کے تناظر میں بڑا اور اہم ہے، اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے، تاہم عملی حالات اور ہندو مسلم کے نام پر جاری نفرت اور پارٹی، تنظیم سے وابستہ لیڈروں کے بیانات اور ان کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے کئی طرح کے سوالات اور تضادات قائم ہیں۔
عملی حالات اور بیانات میں جب تک موافقت پیدا نہیں ہوگی تب قول با معنی نہیں ہوگا، بھاگوت کا بیان ذہانت اور گہری منصوبہ بندی پر مبنی ہے کہ مذہبی و تہذیبی شناخت کے حوالے سے الگ وجود کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے، دیگر کی آزادی اور وجود کو تنوعات والے ملک بھارت اور جمہوری نظام ضروری ہے، البتہ ہندستانی شہری کی حیثیت سے ایک قوم کی بات صحیح ہے۔
سنگھ کا تصور قومیت و اتحاد طویل بحث وگفتگو کا موضوع ہے، ہمارے موقر قائدین کو ڈاکٹر بھاگوت کی کتاب،’ مستقبل کا بھارت‘ کا سنجیدہ مطالعہ کرکے مبنی بر حقیقت تجزیہ اور رائے قائم کرنا چاہیے، سر دست فرقہ وارانہ تشدد اور ماب لنچنگ کے تناظر میں ضروری باتوں میں پیش رفت ہونا چاہیے۔









