نئی دہلی :
گزشتہ سال جس 17 سالہ لڑکے نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس سی سی اے کے خلاف مظاہرین پر گولیا ں چلائی تھیں ، اس نے اب گروگرام کے پٹودی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اگلی ہے۔ وہ مہا پنچایت میں بول رہا تھا۔ اس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ اس ویڈیو میں مبینہ طور پر جامعہ میں مسلم خواتین کے اغویٰ کے بارے میں اشتعال انگیز تقریر کررہا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نظر آنے والا نوجوانوں نے گزشتہ سال جنوری میں دہلی میں واقع جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قریب فائرنگ کی تھی۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرلیا تھا،چونکہ وہ نابالغ تھا ، اسے ایک شیلٹر ہومبھیجا گیا تھا جہاں وہ کچھ مہینے رہنے کے بعد باہر آگیا اور اب وہ اس تازہ ویڈیو میں نفرت پھیلاتاہوا نظر آرہاہے ۔
پٹودی میں ہوئی اس مہا پنچایت میںاس کے ذریعہ دی گئی تقریر کی کلپنگ سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے ۔ اس ویڈیو میں اس کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے
کہ جب مسلمانوں پر حملے کئے جائیں گے تو وہ’ رام رام‘ چلائیں گے ۔
ویڈیو میں اسے یہ کہتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے ،پٹودی سے صرف اتنا ساانتباہ دینا چاہتاہوں، ان جہادیوں کو، آتنک وادی ذہنیت کے لوگوں کو، جب سو کلومیٹر دور جامعہ جاسکتا ہوں سی اے اے کی حمایت میں ، تو پٹودی زیادہ دور نہیںہے ۔ اس نے جے شری رام کہ نعرے کے ساتھ اپنی تقریر ختم کی۔









