اردو
हिन्दी
مئی 15, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افغانستان: چند پُراسرار اقدامات

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
افغانستان: چند پُراسرار اقدامات
22
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

سلیم صافی

افغانستان میں امریکہ کے کل چند فوجی ہلاک ہوئے لیکن اس کے برعکس لاکھوں افغان طالبان، سیکورٹی فورسز یا پھر عام شہری لقمہ اجل بنے۔ امریکہ نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو بھی مار ڈالا۔

بڑی حد تک القاعدہ کو کمزور کیا اور طالبان سے بھی یہ گارنٹی لے لی کہ وہ القاعدہ اور داعش وغیرہ سے تعلق رکھیں گے اور نہ اپنی سرزمین انہیں امریکہ کے خلاف استعمال کرنے دیں گے۔ یوں امریکہ کے مقابلے میں پاکستان اور افغانستان کا نقصان بہت زیادہ ہے۔

مستقبل کے لئے اس کو کوئی خطرہ بھی نہیں رہا اور فوجیوں کے نکلنے کے بعد اس کے مالی نقصان کا سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا لیکن بہر حال اس طرح بھی نہیں ہو سکا جس طرح کہ امریکہ نے چاہا تھا۔ بظاہر اسے شکست ہوئی ہے لیکن امریکہ میں خاموشی ہے۔

ویتنام جنگ کے بعد جس طرح امریکی صحافت اور سیاست میں اس کا تذکرہ ہو رہا تھا اور جس طرح امریکہ میں یاد گاریں بن رہی تھیں، ویسا کچھ نہیں ہورہا۔ ڈیمو کریٹس، ری پبلکن کو طعنہ دے رہے ہیں کہ انہوں نے ایسی جنگ کیوں چھیڑی اور نہ ری پبلکن ڈیمو کریٹس پر انگلی اٹھا رہے ہیں کہ افغانستان کو تباہی کے سپرد کرکے فوج کیوں نکالی۔ اسی طرح امریکہ کے نیٹو اتحادی بھی شور نہیں مچارہے کہ امریکہ نے اپنے ساتھ ان کو بھی ذلیل کیا۔

اب کامن سینس کی بات تو یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی سیاست اور صحافت کے میدانوں میں اس وقت طوفان برپا ہونا چاہئے تھا لیکن وہاں ایک پُراسرار خاموشی ہے۔ اس کے برعکس امریکی قیادت نہ صرف مطمئن ہے بلکہ وہ افغانستان کا تذکرہ بھی نہیں کرنا چاہتی۔

افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ وائٹ ہائوس کی ملاقات کے دوران امریکی صدر جوبائیڈن چند منٹ کیلئے ایسے بیٹھے تھےکہ جیسے کسی نے جبراً انہیں بٹھایا ہو۔ ان کے ہاں کوئی گرمجوشی نہیں تھی۔ کاغذ پر لکھے ہوئے پوائنٹس پڑھ رہے تھے اور بات کو مختصر سے مختصر کررہے تھے۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر اشرف غنی کے چہرے کے تاثرات اور واپسی پر ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ کے اس بیان کہ افغانستان کی تقسیم کا خطرہ ہے، سے لگتا ہے کہ جوبائیڈن کی طرف سے یہی جواب ملا ہے کہ آپ لوگ جانیں اور افغانستان جانے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا یہ رویہ انتہائی پُراسرار ہے اور ان کے اطمینان کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔

دوسرا پُراسرار عمل افغان فوج کا پے در پے سرنڈر ہے۔ یقیناً اس وقت طالبان کا مورال بہت بلند ہے۔ ماضی کی بنیاد پر طالبان کی دہشت بھی لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھی ہے لیکن یہی افغان فوج گزشتہ دو سال سے طالبان سے لڑرہی تھی اور اسی لئے کسی ایک ضلع کو بھی مکمل طور پر طالبان کے قبضے میں جانے نہیں دیا۔ اب یہ امر حیرت انگیز ہے کہ چند درجن طالبان کے آگےسیکڑوں فوجی ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔

ماضی کے برعکس طالبان ان کو جیب خرچہ اور کلاشنکوف دے کر عزت و احترام سے رخصت کردیتے ہیں جبکہ امریکیوں کا چھوڑا ہوا بھاری اسلحہ وہ طالبان کے حوالے کرلیتے ہیں۔ یہ عمل صرف جنوبی اور مشرقی صوبوں میں نہیں بلکہ شمالی اور مغربی افغانستان کے تاجک، ازبک اور ترکمن صوبوں میں بھی ہورہا ہے جو حیران کن ہے۔

ایک اور پُراسرار عمل یہ ہے کہ مشرقی اور جنوبی افغانستان کی نسبت شمالی اور مغربی افغانستان میں طالبان زیادہ اضلاع پر قبضہ کررہے ہیں۔ اگر پاکستان کی سرحد سے منسلک صوبوں مثلاً پکتیا، پکتیکا، خوست، یا پھر جنوبی صوبوں جیسے قندھار، ہلمند اور زابل وغیرہ جیسے پختون صوبوں میں ایسا ہوتا تو ہمیں کوئی حیرت نہ ہوتی لیکن ان علاقوں کی بجائے زیادہ اضلاع شمالی اور مغربی افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں میں آرہے ہیں۔

مثلاً چینی، پاکستان اور تاجکستان سرحد سے متصل صوبہ بدخشان طالبان کے گزشتہ دور میں بھی ان کی دسترس میں نہیں آیا تھا لیکن اب اس تاجک صوبے کے کئی اضلاع پر طالبان کا قبضہ ہوچکا ۔

کندوز تاجکستان سرحد سے جڑا صوبہ ہے جس کے انٹری پوائنٹ شیرخان بندر پر طالبان قابض ہوچکے۔ اسی طرح جوزجان اور فاریاب جیسے مغربی اور ازبک یا ترکمن صوبوں میں کئی اضلاع طالبان کے زیرقبضہ آگئے ہیں۔ تخار، جو طالبان کے گزشتہ دور میں شمالی اتحاد کا ہیڈکوارٹر تھا،میں بھی ایک ضلع پر طالبان نے قبضہ کرلیا۔

یوں جنوب اور مشرق کی بجائے زیادہ تعداد میں مغرب اور شمال میں افغان فوج کا سرنڈر ہونا اور طالبان کی فتوحات پُراسرار بھی ہیں اور بظاہر سمجھ میں بھی نہیں آتیں۔

مزید پُراسرار عمل افغان وزیر دفاع اسدﷲ خالد کا پُراسرار طور پر منظر سے ہٹ جانا ہے ۔ وزیردفاع بن جانے کے بعد وہ گزشتہ دو سال ڈٹ کر طالبان کے خلاف لڑے اور خود فوجی یونیفارم پہن کر مختلف محاذوں پر جنگ کی کمانڈ کرتے رہے۔ اب چند روز قبل وہ پُراسرار طور پر منظر سے غائب ہوگئے ۔

ادھر ضلع کے اوپر ضلع طالبان کی جھولی میں گررہا تھا اور ادھر وزیر دفاع نظر نہیں آرہے تھے۔ کئی روز بعد پتہ چلا کہ وہ بیمار ہیں اور علاج کے لئے امریکہ گئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اشرف غنی نے ان کی جگہ حامد کرزئی دور کے بسم اﷲ خان کو نیا وزیردفاع مقرر کیا جبکہ آرمی چیف کو بھی تبدیل کیا۔

یہ بھی پُراسرار عمل ہے کہ طالبان سو سے زائد اضلاع پر تو قابض ہوگئے لیکن کسی صوبائی ہیڈکوارٹر پر قبضہ نہیں کررہے حالانکہ اگر وہ چاہیں تو کئی صوبوں کے ہیڈکوارٹرز کو آسانی کے ساتھ اپنے زیر تصرف لاسکتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کچھ قوتوں کے ساتھ یہ انڈرسٹینڈنگ ہوچکی ہے کہ سردست وہ صوبائی ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کی کوشش نہیں کریں گے۔

اب یہ ایک اور پُراسرار عمل ہے۔ ترکی جو پاکستان کا دوست لیکن چین کا مخالف ہے، کا اچانک میدان میں کودنا بھی نہایت پُراسرار ہے۔ ان حالات میں ترکی کا کابل ایئرپورٹ کی سیکورٹی کی ذمہ داری لینے کے لئے تیار ہونا بڑا رسکی عمل ہے۔

اسی طرح ترکی نے وسط ایشیائی ممالک میں بھی دلچسپی اچانک بڑھا دی ہے۔ افغانستان کے حوالے سے ترکی کا اچانک اور ضرورت سے زیادہ تحرک بھی پُراسرار ہے لیکن ترکی چونکہ پاکستان کا دوست ملک بھی ہے اس لئے میں سردست مزید تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔

(بشکریہ: جنگ)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026
Kejriwal Video Order News

کیجریوال کی جج سے بحث: ہائی کورٹ کا پولیس کو سوشل میڈیا سے ویڈیو ہٹانے کا حکم

اپریل 15, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN