نئی دہلی
ہندوستانی مسلمانوں کی کل ہند وفاقی تنظیم سمجھی جانے والی آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ممتاز مسلم رہنما اور صدر جمعیۃ مولانا سید ارشد مدنی کو امیر الہند منتخب کیے جانے پر مبارکباد پیش کی۔صدر مشاورت نوید حامد نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ اسلامی معاشرتی مسائل کے حل کے لیے محاکم کانظام ایک موثر وعملی طریقہ ہے، اس کے لیے اپنے اکابر ہمیشہ سے فکر مند اور سرگرم عمل رہے ہیں ۔ جمعیۃ علماء ہند اور اس کے اکابر اس کے لیے آزادی سے پہلے بھی انتخاب امیر کے مسئلے پر انتہائی سنجیدہ رہے ہیں ،اگر جمعیۃ علماء ہند اور حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ کے طرز کو اختیار کیا جاتا تو آزادی سے پہلے ہی ملک گیر سطح پر امارت شرعیہ کانظام قائم ہوجاتا ، لیکن اس کے لیے ماخول ساز گار نہیں تھا۔ آزادی کے بعد اس سمت میں پیش قدمی کرتے ہوئے 80 ء کی دہائی میں انتخاب امیر کا عمل وجود میں آیا۔
اس سلسلے میں پانچویں امیرالہند کے طور پر آپ کاانتخاب ملک وملت کے لیے خوش آئندہے۔ اس کے لیے ہم اپنی اور آل انڈیا مجلس مشاورت کی طرف سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ آگے انہوں نے کہا کہ آپ کی ذات سے امید ہے کہ آپ کی توجہ اور رہنمائی میں ملک و ملت کے حق میں بہتر اثرات و نتائج مرتب ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کی امارت میں ملت اسلامیہ ہند کی کامیابیوں وکامرانیوں کی راہ آسان کرے۔آمین









