لکھنؤ :
اترپردیش بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (یو پی ایم ایس پی) نے 10 ویں اور 12 ویں کے طلبہ کے انگریزی نصاب میں تبدیلی کی گئی ہے ۔ جس کے تحت نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور اور سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ایس رادھاکرشنن کے کاموں کو ہٹا دیا ہے۔ نیوز18کی ایک رپورٹ میں اس بات کی جانکاری دی گئی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق ٹیگور کی کہانی ’دی ہوم کامنگ‘ اور ڈاکٹر رادھا کرشنن کے مضمون ‘’دی ویمنس ایجوکیشن‘ کو کچھ دیگر مشہور ہندوستانی اور انگریزی مصنّفین اور شاعروں کی تخلیقات کے ساتھ ہٹا دیا گیا ہے۔
ملک راج آنند کی مختصر کہانی ’دی لوسٹ چائلڈ‘ اور آر کے نارائن کی’ این اسٹرولاجرس ‘ کو بھی 12 ویں کے نصاب سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ پی بی شیلی اور جان ملٹن کے کاموں کو بھی ہٹا دیا گیاہے ۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسویں کے نصاب سے سروجنی نائیڈو کی نظم ’ دی ولیج سانگ‘ کو چکروتی راج گوپالا لاچاری ، ڈبلیو ایم رائبرن اور شری نواسن کے کاموں کے ساتھ ہٹا دیا گیا ہے ۔
یوپی بورڈ آئندہ تعلیمی سال کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریزی کے لئے نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کے نصاب کو نافذ کررہا ہے۔ رپورٹ میں حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نئے نصاب کے تحت طلبا کو کم کتابیں پڑھنی ہوں گی۔









