نئی دہلی :
راجستھان سرکار کے بعد اب حکومت ہند کا محکمہ آثار قدیمہ بھی بتائے گاکہ ہلدی گھاٹی کی جنگ میں مہارانا پرتاپ اکبر کے سامنے شکست نہیں کھائی تھی۔
ہلدی گھاٹی اور راجسمند کے بادشاہی باغ میں ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے رکتالائی میں نصب نوشتہ کو ہٹا دیاجائے گا۔ اس سائن بورڈ (تختی ) میں ہلدی گھاٹی کی جنگ میں مہارانا پرتاپ کو پیچھے ہٹنا بتایا گیا ہے ، حالانکہ اس تختی میں لکھے الفاظ کو کچھ لوگوںنے بدل دیاہے ، اب اےایس آئی اس تختی کو ہی ہٹانے جا رہا ہے ۔
در حقیقت بی جے پی کی سابقہ حکومت نے اسکولوں کے نصاب میں یہ تبدیلی کی تھی ، جس میں مہارانا پرتاپ کو ہلدی گھاٹی کی لڑائی میں فاتح قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے راجستھان کی راجپوت تنظیمیں لگاتار یہ مانگ کررہی تھی کہ ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے ہلدی گھاٹی اور رکتالائی میں لگائی گئی تختی کو ہٹایا جائے اس تختی پر لکھاہوا ہے کہ 1876 میں اکبر اور مہارانا پرتاپ کے درمیان ہوئی ہلدی گھاٹی جنگ میں رانا پرتاپ کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔
اے آئی ایس نوشتہ کو ہٹائے گا

جے پور راج گھرانے کے سابق ممبر اور راجسمند سے رکن پارلیمنٹ دیا کماری اس کے لیے مرکزی سرکاری سے لگاتار مانگ کررہی تھیں، اس کے بعد وزیر مملکت برائے ثقافت ارجن رام میگھوال نے کہاکہ اس سمت میں آثار قدیمہ کو حکم جاری کر دیا گیاہے ۔ اے ایس آئی کے جودھپور ریجن کے انچارج سپرنٹنڈنٹ وپن چندر نیگی نے کہاکہ اس سمت میں جلد ہی قدم اٹھایا جائے گا۔
راجستھان سرکار کے محکمہ سیاحت کو اس بارے میں ہدایت دی جائے گی کہ گائڈ بھی سیاحوں کو یہ نہیں بتائیں کہ مہارانا پرتاپ کی فوج ہلدی گھاٹی جنگ میں پیچھے ہٹی تھی۔
بتادیں کہ تقریباً445 سال پہلےراجستھان 21 جون 1576 میں میواڑ کے راجا مہارانا پرتاپ اور مان سنگھ کی قیادت والی مغل حکمراں اکبر کی بڑی فوج کا آمنا سامنا ہوا تھا۔ چار گھنٹے چلے اس جنگ میں کئی لوگوں کی جانیں گئی تھیں۔










