اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

برصغیر کو علمی سیاسی قیادت کی سخت ضرورت

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
برصغیر کو علمی سیاسی قیادت کی سخت ضرورت
44
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

ایک سے زیادہ مذاہب اور مذہبی ثقافتوں کی نمائندگی کرنے والے ملک میں حکومت کو لادین نہ ہوتے ہوئے بھی اجتماعی طور پر کسی مذہب کی نمائندگی نہیں کرنی چاہئے،اور ایسے مذہب کی تو ہرگز نہیں جس کے پیروکار اکثریت میں ہوں۔ حکمراں حلقے اور اپوزیشن کے ہر نمائندے کو خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو، اپنے دین/دھرم سے انفرادی تعلق رکھنا چاہیے۔ اجتماعی حکومتی ذمہ داریاں عین انسانی تقاضوں کے مطابق نبھائی جانی چاہئیں۔

بد قسمتی سے ہندستان اور پاکستان میں حقیقی تعلیم کی کمی کے سبب ایسا نہیں ہو پاتا۔ دونوں ہی ملکوں میں کسی نہ کسی مذہبی گروپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ملک خالصتاً اُس کا ہے، باقی مذاہب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری نہ ہوتے ہوئے بھی شمار میں دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ہندستان میں ایسی سوچ کا پھر بھی وقفے وقفے سے ازالہ ہوتا رہتا ہے لیکن پاکستان میں حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، جس کی کچھ نقل حالیہ دنوں میں یہاں بھی کی جانے لگی ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی سب خیریت نہیں۔

ایسا کیوں ہے اس پر اگر اہل علم غیر جانبدارانہ طور پر غور کریں تو صاف واضح ہو جائے گا کہ یہ نظریاتی سوچ کو علم سمجھنے اور اسے حقیقی تعلیم کے متوازی کھڑا کر نے کا نتیجہ ہے۔نظریہ کسی صورت علم نہیں، اس کا تعلق یقین اور عقیدے سے ہوتاہے جوسمجھنے سے زیادہ ماننے اور منوانے والی چیزہے، خواہ اِس کے لئے طاقت ہی کیوں نہ استعمال کی جائے۔ دوسری طرف حقیقی علم کا تعلق سمجھنے، جاننے اور اُن اوہام کو مٹانے سے ہے جو کسی یقین کو خطرناک موڑ تک لے جاسکتے ہیں۔ علم صرف ذاتی عداوت کو پہچانتا ہے اور اسے جواز سمیت ختم کرنے کی عقلی کوشش کرتا ہے۔ دوسری جانب نظریاتی سوچ اور عقیدے کا تعلق اجتماعی تسلط پر یقین سے ہے اور اِسے منوانے کی زبانی کوشش کو کامیاب بنانے کیلئے طاقت کا بے دریغ استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

اکثر فرقہ وارانہ فسادات میں مارنے اور مرنے والے ایک دوسرے کو نہیں جانتے، نہ ان میں کوئی ذاتی جھگڑا یا دشمنی ہوتی ہے۔ پھر بھی وہ ایک دوسرے پر پل پڑتے ہیں اور حسب طاقت حریف کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔ جس حلقے کا زیادہ نقصان ہوتا ہے وہ اپنے لئے مظلوم کا لقب اختیار کر لیتا ہے اور جس کا نقصان کم ہوتا ہے وہ مانے یا نہ مانے زمانے کو ظالم نظر آنے لگتا ہے۔

یہی وہ منظر نامہ ہے جس کو بدلنے کیلئے ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہوتی ہے جو مذاہب بیزارلوگوں پر نہیں، بلکہ مذہبی آزار سے پاک نمائندوں پر مشتمل ہو۔بدقسمتی سے ہندستان کی سابقہ حکومتوں نے علمی سطح پر ایسے کسی نظم کو فروغ ہی نہیں دیا اور پاکستان میں توروازِ اول سے مذہبی آزار حکمرانوں اور مختلف النوع سیاست دانوں کا ہی کاروبارچلتا آ رہا ہے۔

اس لحاظ سے برصغیر کا موجودہ منظر نامہ انتہائی تشویشناک ہے اور اسے بدلنے کی سوچ رکھنے والے ہر جگہ بری طرح بکھرے ہوئے ہیں۔ جہاں کہیں سے بھی انقلابی سوچ رکھنے والوں کو منظم کرنے کی کوشش شروع کی جاتی ہے، اِس کوشش کو موقع پرستوں کی نظر لگ جاتی ہے۔بدقسمتی سے کچھ اعتدال پسند مذہبی گھرانے دوہرا کردار رکھتے ہیں۔انہیں حکومت سے بھی فائدہ چاہئے اور مسائل بھُنا کرکے وہ اپنے محدود مفادات کا کاروبار بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے گھرانے تنظیموں اور مجالس کی شکل میں دونوں حلقوں میں سرگرم عمل ہیں۔

جس طرح کفن فروش شرح اموات کم کرنے والی کسی طبی جستجو سے کبھی دل سے اتفاق نہیں کر سکتا، عین اسی طرح بین فرقہ عدم تشدد سے جنونی مذہبی عناصر کبھی اتفاق نہیں کر سکتے جو فساد میں گرنے والی لاشوں اور زخمیوں کی تعداد کے حساب سے نفع نقصان کا کاروبار ہی نہیں کرتے بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے موضوع پر زبانی جمع خرچ کی نقد داد بھی وصول کرتے ہیں۔ اس ماحول نے برصغیر کی انتخابی سیاست کو انتہائی خستہ کر رکھا ہے۔

حالات کے تازہ موڑ پر 2022 کے اسمبلی انتخابات سے عین قبل اتر پردیش میں پاپولیشن کنٹرول بل لانے کا مقصدبظاہر اِس کے سوا کچھ نہیں کہ مخالفت کرنے والوں کے خلاف صف بندی کی جائے اور اُس سے انتخابی فائدہ اٹھایا جائے۔ ردعمل پسند روایتی ملی قیادت اگرچہ سوچے سمجھے بغیر حسبِ سابق میدان میں کود پڑی ہے، لیکن خوش قسمتی سے مغربی بنگال کے انتخابات نے نئی نسل میں ایک حد تک انتخابی محاذ پربیدار ی پیدا کردی ہے۔ یہ اُس کی ہی برکت ہے کہ نئی نسل کے صحت مند سوچ والے حلقے نے محدود مفادات کے انتخابی ہتھکنڈوں کو سمجھنا شروع کردیا ہے۔ وہ جان گئے ہیں کہ یہ بل مشترکہ طور پر دونوں فرقوں کیلئے سازگار کم اور پریشان کن زیادہ ہوگا، اس لئے ان کی طرف سے بل کا کوئی سخت مخالفانہ نوٹس نہیں لیا گیا۔

اس بار حقیقی طور پر پڑھے لکھے مسلمانوں نے کسی بھی بے ہنگم رد عمل کے مقابلے میں اسٹریٹجک دانش مندی کو ترجیح دی ہے۔ہندوستانی مسلمانوں کی نئی نسل بفضلہ اب اِس بات سے بخوبی واقف ہو گئی ہے کہ ملک میں تنگ مفادات کے لئے سیکولرازم کے استحصال کے بعد اب مذاہب کے خطرناک استحصال کی سیاست کی جارہی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ماضی کے نقصان میں حال کا نقصان شامل کرنے والی کوئی بھی غلطی دہرائی جائے۔خاص طور پر یہ نوجوان اپنی نام نہاد ملی قیادت کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر عقل استعمال کرنے کی کوئی چیز ہے، تو اسے استعمال بھی کرنا چاہئے۔

اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور گلوبلائزیشن کی برکت سے عالمی اور علاقائی سیاست میں بعض خوش آئند تبدیلیوں کی ابتدائی جھلک نے مسلمانوں کی سر دست محدود تعلیم یافتہ نئی نسل کو میں ایک طرح کی عملی بیداری پیدا کر دی ہے۔ اب وہ دوست /دشمن کی پرانی فہرست ڈھونے کے بجائے اپنی تفہیم کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ انہیں سمجھ میں آنے لگا ہے کہ ہر مخالف دشمن نہیں ہوتا اور ہر پسند حق اور ناپسند باطل نہیں۔دشواری یہ ہے کہ مسئلہ صرف نظریاتی دشمنی تک محدود نہیں، عقل کی بات سننے اور سنانے کے لئے سامعین کا خاصا فقدان ہے۔اِس کی ایک بہت ہی واضح وجہ یہ ہے کہ معاشرے میں دو چیزیں ہیں: ایک تعلیم اور دوسرا مذہب۔ مذہب اور تعلیم کے مابین بنیادی فرق یہ ہے کہ تعلیم صرف پڑھے لکھے لوگوں کا حصہ ہے، جاہل اسے سنبھالنے کے متحمل نہیں۔ دوسری طرف دین کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ یہ تعلیم یافتہ اور جاہل دونوں کو یکساں طور پر دستیاب ہے۔ایسے میں علم کا بے جا استحصال کرنے والے مذہب کی تجارت پر اتر آتے ہیں اور جاہلوں سے مذہب کے نام پر انتہا پسندانہ تشدد اور ماب لنچنگ تک کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔مذہب ویسے بھی بنیادی طور پر ایک مان لینے تک محدود عقیدہ ہے۔ایسے میں بدقسمتی سے معصوم، سادہ لوح یا جذباتی لوگ جعلی مذہبی رہنماؤں کی وجہ سے اکثر ناحق کو حق سمجھنے لگتے ہیں اور تشدد کو باطل کے خلاف حق کی لڑائی سمجھ بیٹھتے ہیں۔

نظریاتی سوچ خواہ وہ یمینی ہویا یساری تعلیم ہرگز نہیں ہے۔ البتہ دونوں انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔حقیقی تعلیم ہی انسانی وسائل کی ترقی اور اس ترقی سے زیادہ سے زیادہ ذہنی استفادے کی راہ ہموار کرتی ہے اور یہی مقصد کُن یعنی کائنات کی تخلیق کے مقصد کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN