تحریر : مسعود جاوید
ہر ایک شخص کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
ملوں گا اب نہ کسی سے یہ دل میں ٹھانی ہے
پچھلے کئی سالوں سے جس صورت حال کا سامنا مسلمانوں کو ہے اس کا فوری اور جذباتی ردعمل کا ترجمان مذکورہ بالا شعر ہو سکتا ہے لیکن یہ سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔
اترپردیش کے انتخابات چند مہینوں کے فاصلے پر ہے سیاسی پارٹیوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں لائحہ عمل کا اعلان شروع ہو چکا ہے۔ حسب سابق مسلم ’سیاسی جماعتیں‘ جو پچھلے پانچ سالوں سے خواب خرگوش میں تھیں جنہوں نے بلا تفریق مذہب و جات برادری زمینی کام کر کے عوامی مقبولیت حاصل نہیں کی وہ بھی عین موقع پر میدان میں کود کر مسلم نمائندگی کی دہائی دے کر مسلم ووٹرز کو اپنے حق میں متحد ہو کر ووٹ کی اپیل کریں گے!
مسلمانوں کا ووٹنگ پیٹرن انتخابی موسم میں یہ ہوگا کہ کون مین اسٹریم سیاسی پارٹی کتنے مسلمانوں کو ٹکٹ دے کر امیدوار بناتی ہے۔ ان کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہوگا کہ بہوجن سماج پارٹی کے اعلیٰ کمان نے اب اسٹریٹجی بدل دی ہے اب مایاوتی جی کے کمانڈر ان چیف مشرا جی نے بی جے پی ہندوتوا برانڈ کو ٹکر دینے کے لئے بی ایس بی ہندوتوا کا اعلان کیا ہے اور اس کی شروعات برہمن سمیلن سے کیا ہے آگے کا پروگرام متھرا اور کاشی ہیں۔ بقول ان کے برہمن اور دلت ووٹ ان کے لئے کافی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کی تقریباً 20 فیصد ووٹ کی ان کی پارٹی کو ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ مسلم مسائل ان کے انتخابی منشور میں جگہ نہیں پائیں گے۔ اس کے باوجود کہیں نہ کہیں پس پردہ ان کی اسٹریٹجی میں یہ ہوگا کہ مسلمانوں کو امیدوار بنانا کافی ہوگا پارٹی پالیسی سے مسلمانوں کو مطلب نہیں ہوتا۔
کہا جاتا ہے کہ دوسروں کی غلطیوں سے دانا سبق لیتا ہے لیکن دانائی کے اس مسلمہ کو بی ایس پی نظر انداز کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی نے سافٹ ہندوتوا اپنا کر دیکھ لیا راہل گاندھی جنیو دھاری بن کر دیکھ لئے مگر بی جے پی کے اوریجنل ہندوتوا برانڈ کے سامنے شیو سینا ٹکی اور نہ کانگریس تو اس بی ایس پی کی کیا اوقات ہے لیکن یہ سوچنے کا کام مایاوتی اور ان کی پارٹی، راہل گاندھی اور ان کی پارٹی کا ہے ، مسلمانوں کا نہیں۔
مسلمانوں کو سوچنے کا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کا سیاسی وجود کی بقا کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
مسلمانوں کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ تجربات بتاتے ہیں کہ خالص مسلم سیاسی پارٹی کسی بھی طرح قابل قبول اور کامیاب نہیں ہو سکتی اور دوسری طرف نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو مسلمانوں کی شراکت نہیں فقط ووٹ چاہئے۔ امر واقعی یہ ہے کہ مینی فیسٹو میں مسلم مسائل کو جگہ ملے گی اور نہ پوسٹر بینر اور اسٹیج پر۔
بعض مسلم دانشوروں کا مشورہ گاہے بگاہے آتا رہتا ہے کہ مسلمان سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیں اور صرف اور صرف تعلیم پر اپنی ساری توانائ صرف کریں۔ میرے خیال میں ایسا فیصلہ کرنا مشکل حالات سے فرار کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔ کسی بھی فرد ہو یا کمیونٹی گروہ کی ترقی ہمہ جہتی جب تک نہیں ہوگی اس وقت تک وہ اپنے کنبہ اور سماج کے لئے مفید نہیں ہوگا۔ ترقی یافتہ ملک ہو یا ترقی پذیر اس کی ترقی کا درجہ طے کرنے کے لئے عالمی ایجنسیاں یہ دیکھتی ہیں کہ اس ملک میں سماج کے ہر طبقہ کی شمولیت سیاسی سماجی ترقی رفاہی و صحت اور معاشی بہتری میں ہو رہی ہے یا نہیں۔ کسی حقیقی جمہوری ملک میں کسی کمیونٹی کو مذکورہ بالا کسی فیلڈ سے باہر رکھنا یا باہر رہنا ملکی ترقی کے مقرر معیار کے اعتبار سے عیب سمجھا جاتا ہے۔
افسوس مسلمانان ہند سیاست کو فقط انتخابی سیاست کی نظر سے دیکھتے ہیں اسی لئے تھوڑی بہت سرگرمی اگر نظر آتی ہے تو وہ فقط انتخابات کے موسم میں۔ ایسا لگتا ہے ووٹ دینا ہی سیاست ہے جبکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلمان بھی مین اسٹریم ایشوز کرپشن، مہنگائی بے روزگاری وغیرہ پر برادران وطن کے ساتھ آواز اٹھا کر احتجاج میں شامل ہو کر ملک و قوم کے حصہ ہیں اس کے لئے فکر مند ہیں اس کا احساس درج کرائیں۔
کیا ملک کی ابتر معیشت سے مسلمان متاثر نہیں ہوتے !
لیکن مسلمان بے چارہ کیا کرے اسے مسلکی اختلافات، ملی و دینی اداروں کی صورتحال سے ہٹ کر سوچنے کی فرصت کہاں ہے ! مسلک مسلک کھیلنا اور ایک دوسرے کی ٹانک کھینچنا کتنا اچھا اور محفوظ و مامون ٹائم پاس ہے !










