سدھیندر کلکرنی
دی ٹیلی گراف میں لکھتے ہیں کہ حالیہ دہائیوں میں آر ایس ایس کا مرکزی دھارے کی سیاست میں شمار ہواہے ۔ جد وجہد اور بات چیت ہی اس سے نمٹنے کا واحد راستہ ہوسکتا ہے۔ ہمیں ہندو فرقہ واریت کی مخالفت کرنی ہے ۔ پولرائزیشن اور آئینی اقدار کی توہین کرتی مودی- شاہ کی سرکار کو نظریاتی اور تنظیمی حمایت دینے کی مخالفت کرنے کی بھی ضرورت ہے ، حالانکہ مضمون نگار سنگھ کو اکثریت سمجھتے ہوئے بھی اسے دیش بھکت تنظیم مانتے ہیں، ٹیلی گراف میں لکھتے ہیںکہ سنگھ کی دیش بھکتی سلیکٹیو ہے۔
آر ایس ایس کو’مودی سویم سیوک سنگھ‘ نہیں ہونا چاہئے۔ ٹیلی گراف میں لکھتے ہیںکہ یہ ماننا ہوگاکہ سنگھ نے اپنی توسیع اس شکل میں کی ہے کہ کروڑوں لوگ اس کے حامی ہیں۔
مضمون نگار کے مطابق آر ایس ایس کی سوچ بھی تبدیل ہوئی ہے ۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اور نومنتخب جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبولے کی سوچ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں بدل گئی ہے۔ ٹیلی گراف میں لکھتے ہیں کہ اختلافات کو ختم کرنے کا بھارتیہطریقہ چین ، روس یا مسلم ممالک سے الگ ہے ۔ ہمیں عدم تشدد اور جمہوری طریقوں پرچلنا ہے چاہے وہ جد وجہد ہو یا پھر بات چیت۔ سنگھ ہندو سماج کو متحد کرتا ہے اور اسے بہتر بنانے پر کام کرتاہے ۔ اس نے چھواچھوت کے خلاف کام کیا ہے اور سماج میں ذات پات کے امتیازی سلوک کو دور کرنے کی کوشش کی ہے ۔
دی ٹیلی گراف میں لکھتے ہیںکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پہلے ہی ہوسبولے نے کہہ دیا تھا کہ ہم جنس پرستی جرم نہیں ہے، لیکن اسے فروغ بھی نہیں دیا جانا چاہئے۔ سنگھ کے سماجی سیوا سے جڑے ہونے کی بات کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ راہل گاندھی کو بھی کانگریس سیوا دل کو سرگرم کرنے پر سوچنا چاہئے۔ مضمون نگار نے سنگھ کے ہندو راشٹر کے ایجنڈے سے بھی ملک کو خبردار کرتے ہیں۔ وہ سنگھ کے ہندوتوا کو ناقص ، تقسیم اور خطرناک قرار دیتے ہیں۔










