نئی دہلی :
شہریت ترمیم ایکٹ (سی اے اے ) کے خلاف احتجاج کے دوران جامعہ میں گولی چلانے والا (جامعہ شوٹر)رام بھکت گوپال کو نفرت انگیزتقریر معاملے میںہریانہ کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے ۔ کورٹ نے حکم دیا ہےکہ گوپال کسی بھی جلسہ عام کااہتمام نہیں کرسکتاہے ، نہ ہی وہ کسی جلسہ میں شامل ہوگا اور نہ ہی کسی جلسہ کو خطب کرے گا۔جس سے مذہبی برادریوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہو۔ اس نے گروگرام کے پٹودی میں ایک مہا پنچایت کے دوران مسلمانوں کے خلاف مبابینہ اشتعال انگیز تقریر کی تھی ۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گوپال کو آئی پی سی کی دفعہ 153A اور 295A کے تحت گرفتار کیا گیاتھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے اس سے قبل گوپال کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی اور سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ایسے لوگ وبائی مرض سے زیادہ خطرناک ہیں، کورٹ نے اس معاملے پر کہا تھاکہ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب متنازع اور اشتعال انگیز تقریر کرنا نہیں ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کسی بھی جمہوری ملک کا لازمی جزو ہے، لیکن اس کی حدود بھی ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ معاشرے میں آگ لگانے لگ جائیں، کیونکہ آپ کسی خاص سماج سے نفرت کرتے ہیں ۔جوڈیشل مجسٹریٹ کی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد گوپال نے سیشن کورٹ کا رخ کیا تھا۔











