ونود اگنی ہوتری
بی جے پی اب مکمل طور پر نئی نسل کو قیادت منتقل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بی جے پی کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ مودی نے اس کا آغاز اپنی کابینہ میں توسیع اور ردوبدل سے کیا۔ اگلے قدم کے طور پر کرناٹک میں یدی یورپا کی جگہ سابق وزیر اعلیٰ ایس آر بومئی کے بیٹے بسوراج بومئی کو وزیر اعلیٰ بناگیا ہے ۔
بی جے پی کے اندر یہ بحث ہے کے مدھیہ پردیش میں بھی قیادت کی تبدیلی ہوگی اور شیوراج سنگھ چوہان کی جگہ نروتم مشرا ، بی ڈی شرما ،پرہلاد پٹیل یا کسی اور کو کمان دی جاسکتی ہے ۔
دراصل ، مودی-شاہ کی جوڑی اب پوری طرح سے اپنے دور کی بی جے پی تیار کررہے ہیں جو اٹل – اڈوانی -جوشی دور کی شبیہ سے نہ صرف پوری طرح پاک وصاف ہو گی بلکہ آنے والے دو دہائیوں تک پارٹی قیادت کی صف اول میں یہی چہرے رہیں گے جنہیں اب ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں۔
بی جے پی میں اس وقت جتنے بھی علاقائی لیڈر شپ ہیں وہ سب اٹل – اڈوانی کی بی جے پی کے زمانے میں پیدا ہوئے ہیں۔ صرف یوگی آدتیہ ناتھ ہی اکیلے ایسے ہیں جو 2014 کے بعد کی بی جے پی میں ابھر کر آئے ہیں۔ جبکہ بی ایس ید ی یورپا، شیوراج سنگھ چوہان ،وسندھرا راجیہ ، رمن سنگھ کا عروج اڈل بہاری واجپئی اور لال کرشن اڈوانی کے دور میں ہوا ۔
ایک وقت یہ سب خود کو نریندر مودی ( جو خود کبھی اٹل -اڈوانی کے دور میں بی جے پی کے علاقائی لیڈر تھے) سے کم نہیں سمجھتے تھے اور اس لئے 2014 میں مودی کی قیادت میں بی جے پی کے طوفانی عروج کے باوجود انہیں مودی کو اپنا فطری لیڈر ماننے میں خاصی پریشانی ہوتی رہی ہے اور مودی – شاہ کے لیے انہیں ہٹانا یا حاشیہ پر کرنا ممکن نہیں رہا۔
اب جب نریندر مودی اپنے دوسری مدت میں ہیں اور پرانے علاقائی لیڈر شپ بھی تقریباً ختم ہورہے ہیں ، جبکہ وسندھرا راجیہ اور رمن سنگھ کوانتخابی شکست سے کمزور کردیا ۔ وہیں انتخابی ہار کے بعد مدھیہ پردیش اور کرناٹک میں آپریشن کمل کے ذریعہ شیوراج سنگھ چوہان اور بی ایس یدی یورپا پھر اقتدار پر قابض ہوگئے ۔
اب یدی یورپا کی وداعی کے ساتھ ہی کرناٹک بی جے پی میں علاقائی لیڈر شپ کا خاتمہ ہوگیا ہے تو دوسری طرف راجستھان میں وسندھرا راجیہ کو حاشیہ پر کرنے کی کوئی کسر پردیش بی جے پی نہیں چھوڑرہی ہے ۔
چھتیس گڑھ میں رمن سنگھ کی سرگرمی بھی اب کم ہے۔ اب مرکزی قیادت نے شیوراج سنگھ چوہان کو تبدیل کرنے کی حکمت عملی شروع کر دی ہے۔ اتر پردیش اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے پسماندہ طبقات کو میڈیکل کورسز میں 27.5 فیصد ریزرویشن دے کر پسماندہ طبقات کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بعد شیوراج سنگھ چوہان کا پسماندہ طبقے سے ہونا مرکزی قیادت کے راستے میں آڑے نہیں آئے گا۔
حال ہی میں ان کے دو بار دہلی کے دورے کے بعد پارٹی کے اندر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ انہیں اشارہ دیا گیا ہے اور یہ قدم کسی بھی وقت اٹھایا جا سکتا ہے۔
مودی کی کابینہ میں ردوبدل کے کئی اشارے اور پیغامات ہیں۔ سب سے پہلا اور بڑا پیغام یہ ہےکہ سات جولائی 2021 کو جو نیا کابینہ بنا ہے وہ اب 2024 تک کے لیے جنتے بھی سیاسی اور انتخابی چیلنجز ہیں ان سے نمٹنے کے لیے نہ صرف ٹیم مودی ہے ، بلکہ ایک طرح سے یہ بی جے پی کے اندر جانشینی کے سوال کو بھی حل کرنے کی کوشش ہے ۔ کہا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم نے آگے کی بی جے پی تیار کردی ہے ۔
دوسرا اشارہ یہ ہے کہ بھلے ہی سرکار میں باضابطہ طور سے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو نمبر دو کا درجہ ملا ہوا ہے لیکن مودی سرکار پر وزیر داخلہ امت شاہ کا وہی اثر ہے جیسا کہ اٹل بہاری واجپئی کی سرکار میں لال کرشن اڈوانی کا تھا۔
(بشکریہ : ستیہ ہندی)










