اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

…… نگہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
…… نگہ بلند سخن دل نواز جاں پر سوز
88
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کلیم الحفیظ۔نئی دہلی

عربی کا ایک محاورہ ہے ’’العوام کالانعام‘‘ ۔یعنی عوام چوپائے کی طرح ہوتی ہے۔چرواہاجدھر چاہتا ہے ہنکا لیجاتا ہے۔اسی لیے ہم اکثر ایسے رہزنوں سے دھوکا کھاتے رہے ہیں جو رہبروں اور رہنمائوں کے لباس میں آتے ہیں،اس لیے عوام کے شعور کو اتنا ضرور بیدار ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مخلص خیر خواہوں کو پہچان سکے۔ہم سیاسی طور پر ایسے افراد کو اپنا رہنما تسلیم کرتے ہیں جس کی غنڈہ گردی کے قصے زبان زد عام ہوتے ہیں۔ہم اپنی برادری کی قیادت ایسے افراد کے ہاتھوں میں دے دیتے ہیں جو بازوئوں کی طاقت کے ساتھ دولت مند بھی ہو خواہ اس کی اخلاقی حیثیت کچھ نہ ہو۔یہاں تک کہ ہماری مساجد اور مدارس اور تعلیم گاہوں کے ذمہ داران وہ لوگ بنادیے جاتے ہیں جن کی خوبی اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ وہ دبنگ ہیں اور ان کے سامنے کوئی شریف انسان بول نہیں سکتا ۔یہ صورت حال نوے فیصد سے بھی زیادہ ہے۔امت مسلمہ کا حال اس وقت یہ ہوگیا ہے کہ نہ اس کے رہنمائوں کے پاس وہ خوبیاں ہیں جن کی ایک انقلابی قیادت کو ضرورت ہے اور نہ عوام کو ان پیمانوں کا شعور ہے جن کی روشنی میں اپنے قائد کو پہچان سکیں۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ:

]
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہ رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں

ہماری اسی غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے تمام ادارے اپنے مقاصد میں تقریباً ناکام ہوکر کرپشن کا شکار ہوگئے ۔سیاست تو اس قدر گندی ہوگئی کہ کوئی نیک اور شریف انسان اس کے نام سے گھبرانے لگا۔انجام کار ہم زوال کی جانب ہی چلتے رہے اور آج ایک ایسے گہرے کنویں میں گر گئے ہیں جہاں سے نکلنے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی۔اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بیدا رہوں ،اپنے رہنمائوں کو رہنما تسلیم کرنے سے پہلے ان کے کچھ اوصاف دیکھیں ۔ایسے افراد کو ذمہ داریاں سپرد کریں جو اس کے اہل ہوں۔ذمہ داروں کو جواب دہ بھی بنائیں۔میرے مطالعے کی حد تک ایک لیڈر اور رہنما میں جو خوبیاں ہونا چاہئے وہ درج ذیل ہیں۔

سب سے پہلی خوبی کسی بھی رہنما میں یہ ہونا چاہئے کہ وہ صاحب ویژن ہو۔اس کا کوئی ہدف ہو ۔اس کا کوئی نظریہ ہو ۔جس شخص کا اپناکوئی ویژن،نظریہ یا ہدف نہیں ہوتا وہ مستقل مزاج نہیں ہوسکتا وہ کبھی ترقی کے راستے پر چل ہی نہیں سکتا، وہ امام نہیں بن سکتا بلکہ ایسے افراد پیروکار اور مقتدی ہوسکتے ہیں ۔اسی کے ساتھ امت مسلمہ کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا ویژن اور نظریہ اسلام کے معیار پر کیسا ہے؟اسلامی عقائد سے بھی میل کھاتا ہے یا نہیں اس لیے کہ ایک مسلمان کے لیے اس کی آخرت اصل ہے ۔ایک غیر مسلم کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ اس کا ویژن اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متصادم نہ ہو۔میرے کہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ موحداور نمازی ہو بلکہ وہ انسانیت کی بنیادوں پر مساوات کا قائل ہو اور رنگ و نسل یا علاقے کی بنیاد پر متصبانہ ذہنیت کا حامل نہ ہو۔عام طور پر سیاست میں ویژن کی فکر نہ لیڈر کو ہے نہ عوام کو ۔جب کہ کسی بھی گروہ کی ترقی اور تنزلی کا دارومدار اس کے رہنما کے ویژن سے سیدے سیدھے وابستہ ہے۔

دوسری خوبی جس کو میں ضروری سمجھتا ہوںکہ وہ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر فائز ہو ۔اس کے یہاں عداوت اور دشمنی کے بھی کچھ اصول ہوں ۔آج کل خود غرضی ،ابن الوقتی،دھوکا دہی،دوغلہ پن اور چاپلوسی کو ہی سیاست کا نام دے دیا گیا ہے۔اسی کو ہم رہنما سمجھتے ہیں جو ان عیوب میں طاق ہو۔خود رہنما بھی اسی کورہنمائی سمجھتا ہے ۔لیکن یہ عیوب انسان کو پستی کی جانب لے جاتے ہیں۔کیا وہ انسانی گروہ کبھی عظمت و بلندی سے سرفراز ہوسکتا ہے جس کی سربراہی ایسے عیوب کے حامل افراد کررہے ہوں ،کیا سچائی،امانت داری اوروعدہ کی پاسداری کے مقابلے یہ عیوب کہیں ٹھہر سکتے ہیں؟اخلاص کے مقابلے مفاد پرستی کبھی محبوب نہیں رہی۔کسی زمانے میں بھی ترش روئی اور تلخ بیانی کو زبان کی شیرینی اور خندہ پیشانی پر سبقت حاصل نہیں ہوئی۔بیشتر برائیاں اور اچھائیاں آفاقی حیثیت رکھتی ہیں ان کا مذہب سے نہیں فطرت سے تعلق ہے ۔اس لیے عام انسان کی نظر میں خوبیاں قابل قدر ہی رہیں اور عیوب کو ناپسندیدگی کی نظر سے ہی دیکھا گیا۔

ایک رہنما کو بڑے دل کا مالک ہونا چاہئے۔اسے اپنے دل میں کینہ ،کپٹ ،حسد اور جلن کو جگہ ہی نہیں دینا چاہئے ،اس کے مزاج میں درگزر اور چشم پوشی ہونا چاہئے۔انتقام کی آگ خود اس کی اپنی ذات کے لئے بھی نقصان دہ ہے اور اس کے مشن کے لیے بھی۔اپنے ماتحت افراد کی حوصلہ افزائی اور دل جوئی کشادہ دلی کے بغیر نہیں کی جاسکتی۔دل کی فراخی اور کشادہ قلبی کے بغیر کوئی شخص اپنے ماتحتوں کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتا۔اپنے کارکنان کے لیے سچی ہمدردی ،ان کی تکلیف کا احساس ،ان کے لیے خیر خواہی کے جذبات ہوںتبھی جاکر ایک ایسا کارواں تشکیل پاتا ہے جو پہاڑوں سے ٹکراجاتا ہے۔

تیسری خوبی جس کی ضرورت ایک رہنما کو ہوتی ہے وہ اس کی اصول پسندی ہے۔وہ جس مشن کو لے کر اٹھا ہے اور اس نے اپنا جو ہدف طے کیا ہے اس کے حصول کے لیے اس نے جو اصول بنائے ہیں جو ضوابط طے کیے ہیں ان کی پابندی کرناہی اصول پسندی ہے۔عام طور پر اقرباء پروری اور احباب نوازی سے اصول پسندی چور چور ہوجاتی ہے۔اقرباء پروری ایک گھن کی طرح ہے جو رفتہ رفتہ پوری عمارت کو کھاجاتا ہے۔اس وقت ملک کی بیشتر سیاسی ،ملی یہاں تک کہ بعض دینی و مذہبی جماعتیں اس کا شکار ہوکر اپنے وجود کی آخری جنگ لڑ رہی ہیں۔اقرباء پروری رہنما کو اس کے مقصد سے غافل کردیتی ہے۔اس کے اختیارات کو محدود کردیتی ہے ۔کیوں ڈسپلن شکنی کے جرم میں اپنوں کے گلے پر چھری چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ رہنما کے اندر فیصلہ لینے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اس کے نفاذ کی طاقت بھی ہونا چاہیے۔اسے فیصلہ لینے سے قبل غور وخوض یا مشاورت کے عمل سے گذرنے میں جو وقت درکار ہو،لگانا چاہئے لیکن جب ایک بار فیصلہ لے لیا جائے تو اس کو نافذ بھی ہونا چاہئے۔جو قیادت اپنے فیصلوں کے نفاذ میں کمزور ہوتی ہے اس کی حکومت گھر اور دفتر تک محدود ہوجاتی ہے۔بیشتر رہنما آج اسی کرب سے گزررہے ہیں،لیکن اس کے لیے جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے وہ قول و عمل میں یکسانیت ہے ،جو رہنما اپنے کہے پہ خود عمل نہیں کرتے وہ دوسروں سے پابندی کرانے کا حق کھو دیتے ہیں۔

امت مسلمہ کو ان گزارشات کے تناظر میں اپنے رہنمائوں کا جائزہ لینا چاہئے ۔یہ جائزہ بغیر کسی لاگ لپیٹ کے ہونا چاہئے اور جس شخص کے اندر اسے یہ خوبیاں نظر آئیں اس کی رہنمائی میں کام کرنا چاہئے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا مستقبل بہتر ہو اور ہماری آنے والی نسلیں ہمیں طعنہ دینے کے بجائے دعائیں دیں تو ہمیں ذاتی مفادات،رنگ و نسل اور علاقہ و مسلک سے اوپر اٹھ کرایک ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت کرلینا چاہئے جس کے ہر عمل اور ہر لفظ سے خوشبوئے وفاآتی ہے۔

نگہ بلند،سخن دل نواز ،جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے کے لیے

(یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN