اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اہل زبان نے اردو کی تدفین کے لئے اسے کفن پہنا کرتیارکردیا ہے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
اہل زبان نے اردو کی تدفین کے لئے اسے کفن پہنا کرتیارکردیا ہے
598
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

محمد غزالی خان

ہندوستان میں اردو کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اردو بولنے والوں نے خود کی ہے اور کررہے ہیں۔ پہلے تو اردو لکھنا پڑھنا یہ کہہ کر چھوڑا کہ اسکولوں میں اس کی سہولت نہیں ہے اور پھر رفتہ رفتہ اسے یوں ’تیاگ‘ دیا جیسے ہمارا اس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا پچاس ، ساٹھ یا ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے مسلمانوں کے لئے اردو پڑھنے کی کچھ زیادہ آسانیاں تھیں؟ اگر اس وقت کچھ زیادہ سہولیات تھیں اور اب نہیں ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے اور انہیں بچانے کے لئے کون سی عملی کوششیں کی گئیں؟ جن ریاستوں میں اردو بولی جاتی ہے وہاں اس جماعت کی ان سے کیوں غلامی کروائی جاتی رہی جس نے فسادات میں ان کے قتل عام سمیت ہر اس چیز کو برباد کردیا جس کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق مسلمانوں اور ان کی امتیازی شناخت سے تھا؟

ساٹھ کی دہائی میں ہمارے بچپن تک یوپی کے پرائمری اسکولوں میں اردو میڈیوم اسکول موجود تھے۔ پہلی کلاس سے پانچویں تک تعلیم ہم نے خود اردوزبان میں میں حاصل کی تھی ۔ مسلم علاقوں میں جتنے پرائمری اسکول تھے ان میں ایک ہی کلاس میں اردو اور ہندی کے طالب علم موجود ہوتے تھے مگر استاد کی سہولت کے لئے دو حصوں میں بیٹھتے تھے۔ نصاب کی تمام کتابیں اردو میں ہوتی تھیں۔

اب تو حالت یہ ہوگئی ہے کہ اردو پڑھنا لکھنا تو بہت دورکی بات ہے، جس طرح اردو داں لوگ یو ٹیوب کلپس، ٹیلی ویژن مباحثوں اور تقاریر میں ہندی بولتے نظرآتے ہیں وہ تو اوربھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اس جانب توجہ دلائی جاتی ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ ایسا اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ غیراردو داں لوگ گفتگو کوباآسانی سمجھ سکیں۔

اس بیماری میں اسی کی دہائی میں ہندوتوا لہر کے بعد مزید شدت آئی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ماضی میں اردو داں اور غیراردو داں افراد کے درمیان بات چیت نہیں ہوتی تھی؟ کیا اس وقت وہ آپ کی بات نہیں سمجھتے تھے؟ اسدالدین اویسی سے آپ کو بہت سے مسائل اور موضوعات پر اختلاف ہو سکتا ہے، اور ہمیں بھی ہے، مگر کیا پارلیمنٹ میں ان کی بات کسی کو سمجھ میں نہیں آتی؟

اصل بات یہ ہے کہ آپ نے ہر لحاظ سے ہار مان لی ہے اور ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ یہ حکمران قوم سے ذہنی مرعوبیت کا نتیجہ ہے۔ اس کا منفی اثر شاید ہمارے سامنے پوری طرح نہ آئے مگر آئندہ نسلوں کو اس کی بہت بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی بلکہ اس کے اثرات ہم آج دیکھ بھی رہے ہیں جس میں نئی نسل اردو کو بطور مضمون نہیں لینا چاہتی ، انھیں اردو مشکل اور ہندی آسان لگتی ہے۔

میرے ہم عمر لوگوں کو یاد ہوگا کہ اسی کی دہائی تک آل انڈیا ریڈیو سے خبروں کا ایک بلیٹن نشر ہوتا تھا اور ’تعمیل ارشاد‘ کے نام سے گانوں کا ایک فرمائشی پروگرام نشرہوا کرتا تھا۔ اردو کی خوبصورتی اور اس پروگرام کے میزبانوں کا خاص انداز، جن میں ایک نام شاید زبیررضوی صاحب مرحوم کا تھا، اتنا مقبول تھا کہ یہ پرگرام غیراردو داں لوگ ذوق و شوق سے سنتے تھے۔ اس وقت کسی بھی گلی یا بازارسے رات دس بجے سے ساڑھے دس بجے کے درمیان گزرجائیے اگر کہیں ریڈیو آن ہوتاتو اس پرآل انڈیا ریڈیو کا ’تعمیل ارشاد‘ پروگرام نشرہورہا ہوتا تھا۔

ہمیں یاد نہیں کہ اسی کی دہائی تک (میں سن 83میں میں لندن آگیا تھا) کسی اردو بولنے والے گھرانے میں ہم نے کسی کو ’وزیر‘ کے لئے ’منتری‘ ، ’خبروں‘ کے بجائے ’سماچار‘، ’فساد‘ کےلئے ’دنگا‘ یا ’غدار‘ کے لئے ’دیش دروہی‘ کہتے سنا ہو۔ مگراس وقت کا حال یہ ہے کہ اگردینی مسائل زیربحث نہ ہوں اور بات عام مسائل پرہورہی ہو تو یہ فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ مقرر کی زبان اردو ہے یا ہندی۔ بڑے بڑے علما ء اوردانشوراچھی خاصی گفتگو میں زبردستی ہندی کے الفاظ اس طرح ٹھونس ڈالتے ہیں جس طرح بہت سے لوگوں کو محض جھوٹا رعب ڈالنے کی خاطرانگریزی الفاظ استعمال کرنے کی بیماری ہوتی ہے۔ انگریزی کا استعمال تو اس لئے قابل معافی ہوسکتا ہے کہ بہت سے الفاظ کے لئے بعض وقت مناسب اورعام فہم لفظ نہیں ملتے ۔ مگرجن الفاظ کے لئے اردو میں خوبصورت الفاظ موجود ہیں وہاں زبردستی ہندی یا انگریزی کے الفاظ ٹھونسنے کی عادت کو زبان کے ساتھ زنابالجبر کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اب اردو اخبارات میں بھی اس قسم کے الفاظ دھڑلے سے استعمال ہو رہے ہیں اور اسے کوئی معیوب بات نہیں سمجھا جا رہا ہے ۔ ہندی کے اخبار یا ہندی کے نیوز چینل غلط اردو استعمال کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اردو کے صحافی جب غلط زبان لکھتے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے۔یہاں پر اس کا موقع نہیں ہے کہ مثالیں دیکر ایک ایک کی نشاندہی کی جائے لیکن آپ کوئی بھی اردو اخبار اٹھا کے دیکھ لیجئے اس میں ہندی الفاظ کا بے جھجک استعمال ملے گا ۔ اگر اردو میں اس کا متبادل نہ ہو تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اردو میں وہ الفاظ موجود ہوں اور اس کی جگہ ہندی لکھی جائے تو یہ قطعا ًغیر مناسب ہے ۔

اس تعلق سے اس تاریخی حقیقت کو بیان کرنا غیرضروری نہیں ہوگا کہ 1971 کی مردم شماری کے مطابق اردو بولنے والوں کا تناسب یو پی میں 10.5فیصد بہار میں 8.8 فیصد آندھرا میں 7.5فیصد ، کرناٹک میں 9.0فیصد اور مہاراشٹر میں 7.3فیصد تھا۔ ملک بھر میں مختلف تحریکیں چلائے جانے کے بعد (جس میں ڈاکٹر ذاکر حسین کی چلائی گئی دستخطی مہم شامل ہے جو 1967 میں صدر مملکت بھی بنے اور اردو سمیت کسی بھی ملی معاملے میں کوئی کردار ادا نہ کر سکے)۔ مسلمانوں کو لالی پاپ دینے کیلئے 1972 میں مسز گاندھی نے اردو کے فروغ کیلئے گجرال کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی نے 1975 میں اپنی رپورٹ پیش کردی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ جن شہری علاقوں میں اردو بولنے والوں کا تناسب 10فیصد سے زیادہ ہو وہاں پر اردو میڈیم پرائمری اسکول قائم کئے جائیں اور جن ریاستوں کی زبان ہندی ہے وہاں پر اسکولوں میں سہ لسانی فارمولے کا نفاذ کیا جائے جس کے تحت اسکولوں میں ہندی کے ساتھ ساتھ اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جانا شامل تھا۔ مگر یہ رپورٹ بابو جگ جیون رام جیسے کہنہ مشق سیاست داں کے اصرار پر دبادی گئی اور اس کی وجہ سے پرائمری اسکولوں میں اردو بولنے والے طلبا کی تعداد اور اردو اخبارات کی تعداد میں زبردست تنذ لی آئی۔

گزشتہ مردم شماری میں ہندوستان میں اردو بولنے والوں کی تعداد میں کمی آئی تھی۔ اگلی مردم شماری میں اس کمی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ ہندوستان میں کئی ہزارسال تک غیرملکی حکمرانوں اور سرکاری زبان ہندی نہ ہونے کے باوجود ہندی آج جہاں ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ عبرانی تو ایک مردہ زبان تھی۔ اسرائیل وجود میں آجانے کے بعد ایک مردہ زبان کو جس طرح زندہ کیا گیا اور ایک ملک کی سرکاری زبان بنادیا گیا وہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ مگر ہندوستان کی ایک ایسی قوم جسے صرف زبانی حد تک اپنے ’شاندار ماضی‘ پر فخر ہے اور نامساعی حالات میں اپنے ورثے اورشناخت کا کامیابی کے ساتھ دفاع پر ناز ہے اس کے 6 کروڑ اردو بولنے والے طبقے نے رسم الخط کے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ تو کیا ہی ہے مگر اب بولی جانے والی اردو کو جس طرح دفن کرنے کے لئے نہلا دھلا کر کفن پہنا کر تیارکردیا ہے وہ نہایت تکلیف دہ ہے۔

ایک دور تھا جب کہا جاتا تھا کہ ہندوستان میں اردو بالی ووڈ کی وجہ سے زندہ ہے۔شکر ہے اس خام خیالی یا خوش فہمی کو انہوں نے باقی نہیں رہنے دیا۔ اس وقت حقیقت یہ ہے کہ جیسی کیسی اردو ہندوستان میں باقی ہے وہ مدارس اور مکاتب کی وجہ سے باقی ہے۔ مگر جس قسم کی اردو فارغین مدارس کی اکثریت سوشل میڈیا پر لکھ رہی ہے وہ بھی بہت اطمینان بخش نہیں ہے۔ زبان کے ساتھ جو تاریخی اور ثقافتی ورثہ دفن ہونے جارہا ہے کاش ہمیں اس کا اندازہ ہو سکے اور کاش اس سلسلے میں ٹھوس تدابیر کی جاسکیں۔

(یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN