نئی دہلی :
مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں واضح کیا ہے کہ ملک کاجو بھی شہری ہندو، سکھ یا بودھ دھرم کو نہیں مانتا ہے، اسے شیڈول کاسٹ طبقہ کانہیں مانا جا سکتا۔ ایسے لوگوں کو شیڈول کاسٹ کے فلاح وبہبود کے لیے چلائی جارہی ہیں مرکز ی سرکار کی اسکیموں کا فائدہ نہیں ملنا چاہئے ۔ دھرم بدل کر عیسائی بننے والے بھی اس کا فائدہ نہیں لے سکتے ۔
یہ معلومات سماجی انصاف اور بااختیار کے وزیر مملکت اے نارائن سوامی نے لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دی۔ دراصل آندھرا پردیش حکومت نے 30 جولائی کو ایک حکم جاری کیا ہے۔ حکم کے مطابق شیڈول کاسٹ کے لیے چلائی جارہی اسکیموں کی مراعات تبدیلی مذہب ہو کر عیسائی بن چکے شیڈول کاسٹ کے لوگوں کو بھی ملے گا۔ مرکزکا اس معاملہ پر کہنا ہے کہ آندھرا پردیش سرکار کی اسکیم پر مرکز سے ملنے والے فوائد لاگو نہیں ہوتے۔
آپ انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق آندھرا پردیش میں عیسائی مذہب قبول کرنے والے 80 فیصد لوگ درج فہرست ذات سے ہیں۔ یہ لوگ 1977 کے آرڈر کے ذریعے فراہم کردہ تمام سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس میں رہائش ، مفت بجلی سے لے کر قرض لینے تک کی اسکیمیں شامل ہیں۔
حالانکہ صدر جمہوریہ کی طرف سے جاری کردہ 1950 کے حکم میں کہا گیا ہے کہ صرف وہی لوگ جو ہندو ، سکھ اور بودھ دھرم کو ماننے والے ہی ہندو سمجھاجائے گا ۔ ایک شیڈول کاسٹ کا شہری اگر ان مذاہب پر عمل نہیں کرتا ہے تو وہ درج فہرست ذات کا نہیں رہ جائے گا، اس لئے وہ درج فہرست ذات کوملنے والے مراعات کا حقدار نہیں ہے ۔











