نئی دہلی :
دہلی کینٹ کے پرانے نانگل گاؤں میں ایک بچی کے ساتھ عصمت دری اور اسے جلانے کے معاملے میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ آخری رسومات ادا کی جانے سے کئی گھنٹے پہلے ہی بچی کی موت ہوگئی تھی۔ اب پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر جانچ آگے نہیں بڑھ سکتی۔ وہیں بچی کی موت کیسے ہوئی اور اس کے ساتھ عصمت دری ہوئی یا نہیں یہ بتانے کو لے کر ڈاکٹروں نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں۔ اس کے علاوہ فورنسک ٹیم نے پجاری رادھے شیام کے کمرے کی باریکی سے جانچ کی ہے۔ سی بی آئی کی ٹیم نے بھی سی ایف ایس ایل کی ٹیم کا سہارا لیا ہے۔
بچے کی لاش (جسم کے جلانے کے بعد باقی اعضاء) کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اتنا ہی انکشاف ہوپایا ہے کہ آخری رسومات ادا کی جانے سے کئی گھنٹے پہلے ہی بچی کی موت ہوگئی تھی ۔ ٹخنوں سے نیچے پیر جلنے سے بچ گئے تھے اور ریڑھ کی ہڈی کا حصہ 80 فیصد جل چکا تھا ، ایسے میں بچی کی موت کیسے ہوئی اور اس کے ساتھ عصمت دری ہوئی یا نہیں یہ بات ڈاکٹر کچھ بھی کہنے سے بچ رہے ہیں۔
لڑکی کی ماں نےکورٹ میں 164 سی آر پی سی کی تحت وہی بیان دیئے جو انہوں نے ایف آئی آر درج کرواتے وقت دئے تھے۔ دوسری طرف جمعرات کو بھی اہل خانہ نے بچی کی لاش کو لینے سے انکار کردیا۔ جنوبی مغربی ضلع کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی بنیاد پر جانچ آگے نہیں بڑھ سکتی۔











