نئی دہلی :
کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے کئی ہائی کورٹس میں ججوں اور ٹربیونل کے سربراہوں کی خالی آسامیوں پر حکومت پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ حکومت ان اسامیوں کو پُر نہیں کررہی ہے کیونکہ وہ اپنے نظریے کے حامل لوگوں کی تلاش کررہی ہے ۔ سابق وزیر خزانہ چدمبرم نے ٹویٹ کیا کہ ہائی کورٹ کے ججوں کے مقررہ 1,080عہدوں میں 416 آسامیاں خالی ہیں۔ٹربیونلز میں بڑی تعداد میں سیٹیں خالی ہیں۔ کئی ٹربیونلز کےسربراہوں عہدے خالی ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ مودی حکومت سات سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود ان خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے ارادے کیوں نہیں کررہی ہے؟ چدمبرم نےالزام لگایا ’’ اصلی وجہ یہ ہے کہ سرکار ایسے لوگوں کی تلاش میں ہے جو ان کی سوچ اور نظریے سے لگاؤ رکھتے ہوں گے ۔‘‘
بتادیں کہ سپریم کورٹ نے مرکز پر کالجیم کی سفارشوں بڑی تعداد میں خالی آسامیوں کو بھرنے کی بات کہی ہے ۔ بھارت کے سابق سی جے آئی اس معاملے کو لے کر کئی بار بول چکے ہیں ۔ جمعہ کو سپریم کورٹ نے ٹربیونل میں خالی آسامیوں کو لے کر سرکار کا توجہ اس جانب دلایا تھا ۔
کانگریس اکثر اداروں پرایسے لوگوں کے جوڑنے کا الزام لگاتی رہی ہے جن کے نظریات آر ایس ایس – بی جے پی کے قریبی ہے ، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب عدالتی تقرریوں کو حکومت کے نظریاتی جھکاؤ سے جوڑ کر دیکھا گیا ہے ۔
سپریم کورٹ اور کئی ہائی کورٹوں میں 2020 کے بعد سے کوئی عدالتی تقرری نہیں ہوئی ہے ۔ اس وقت کے چیف آف انڈیا ایس ایس بوبڈے کی قیادت والی سپریم کورٹ کی بنچ نے اس سال کی شروعات میں تبصرہ کیا تھا کہ ملک بھر کے ہائی کورٹ میں خالی آسامیوں کی وجہ ’بحران کی صورت حال‘ پیدا ہوگئی ہے ۔
سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مدن وی لوکور نے حال ہی میں اس موضوع پر ایک آرٹیکل لکھ کر تشویش کااظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بھرتیاں فوری نہیں کی گئیں تو عدلیہ میں مسائل کو حل کرنے میں بہت دیر ہوسکتی ہے ۔
مرکزی وزارت قانون کی ویب سائٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں اس وقت ججوں کی آٹھ آسامیاں خالی ہیں ، دو جج جلد ریٹائر ہونے والے ہیں۔ سپریم کورٹ میں 34 افراد کو کام کرنے کی منظوریہے لیکن موجودہ صورتحال میں صرف 26 افراد کام کر رہے ہیں۔











