لکھنؤ:
لکھنؤ میں مسلم مذہبی رہنماؤں نے انتظامیہ کے ذریعہ اترپردیش میں تعزیہ کو ہٹانے پر اعتراض ظاہر کیا ہے اور کہاہے کہ محرم میں لوگ تعزیہ خریدیتے اور بیچتے ہیں۔ اس سے ایک روزگار چلتاہے، جو سرکار کے ذریعہ پوری طرح سے بند کیاجا رہاہے ۔ ایسے میں سرکار سے اپیل ہے کہ تعزیہ کو بیچنے اور خریدنے پر روک نہ لگائی جائے۔ ہم لوگ انتظامیہ سے مدد کی امید کرتے ہیں۔
دراصل ، اتر پردیش میں محرم کو لے کر الگ الگ جگہ تعزیہ بنا کر بیچا جاتا ہے اور اس کو خرید کر محرم کے دوران استعمال میں لایا جا تاہے، لیکن کئی جگہ سے عالم دین مولانا سیف عباس کو شکاتیں موصول ہوئی ہیں کہ انتظامیہ ان کو تعزیہ تیار کرنے نہیں دے رہاہے اور نہ ہی ان کو خریداری کرنے دے رہاہے ۔
اسی وجہ سہ اتوار کو شیعہ عالم دین مولانا سیف عباس نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے اور اس میں سرکار سے اپیل کی ہے کہ محرم کے تہوار میں تعزیہ ایک روزگار کا ذریعہ ہے ،کئی لوگوں کے پاس ویسےبھی روزگار کےذریعہ نہیں ہے ، ایسے میں یہ لوگ تعزیہ بیچ کر اپنا پیٹ پالتے ہیں ،اگر انتظامیہ اور سرکار تعزیہ بیچنے پر روک لگا ئے گی تو لوگ اپنی زندگی کیسے بسر کریں گے ۔
دوسری بات تمام تعزیہ بنانے والے اور خریدنے والے کووڈ 19-قوانین پر عمل کررہے ہیں۔ ایسے میں سرکاری انتظامیہ کے ذریعہ زبردستی ایسے لوگوں کو پریشان کیا جا رہاہے جس سے کہ ان کی روز ی روٹی پر بحران آگیا ہے ۔ سرکار سے اپیل ہے کہ وہ لوگوں کو تعزیہ بیچنے اور خریدنے کی اجازت دیں۔











