پٹنہ :
بہار کی اہم اپوزیشن پارٹی راشٹریہ جنتا دل ( آر جے ڈی) میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہاہے۔اس سال کےآخر میں قومی صدر عہدہ کے لیے انتخاب ہونا ہے اور اس سے پہلے لالو پرساد یادو کے دونوں بیٹوں تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ یادو میں کھل کر جنگ چل رہی ہے ۔ دونوں ہی جانب سے پوسٹر وار کا جو سلسلہ چلا ہے وہ رکنے کا نام نہیں لے رہاہے۔
دراصل گزشتہ دنوں کے اندر پٹنہ میں واقع پارٹی دفتر میں جو رونماہوا اس نے کئی طرح کے اشارے دئے ہیں ۔ گزشتہ دن آر جے ڈی دفتر میں طلبا یونین سے جڑاایک پروگرام ہوا،جس میں تیج پرتاپ یادو مہمان خصوصی تھے، اس دوران پارٹی دفتر پر صرف تیج پرتاپ یادو کے بڑے بڑے پوسٹر دکھائی دئے اور تیجسوی یادو کا چہرہ غائب رہا۔
جب ہنگامہ ہوا تو یہاں موجود پوسٹروں پر چسپاں تیج پرتاپ یادو کی فوٹو پر رات کو شرارتی عناصر نے سیاہی پوت دی ۔ اب راتوں رات ان پوسٹروں کو اتروا لیاگیا۔ اب پارٹی کے دفتر پر نئے پوسٹر لگے ہیں ، جن میں لالو یادو، رابڑی دیوی کے علاوہ صرف تیجسوی یادو کی تصویر ہے اور تیج پرتاپ یادو غائب ہیں۔

ایسی صورت حال میں سوالات پیدا ہوئے ہیں کہ تیجسوی کو تیج پرتاپ کے پوسٹر سے باہر کیوں کردیاگیا اور آج جب تیجسوی یادو کا نیا پوسٹر لگایا گیا تو اس میں سے تیج پرتاپ کو کیوں باہر کی گیا؟
لالو کے دو بیٹوں کے درمیان اقتدار کی لڑائی کے آثار ہیں۔ اس پر آر جے ڈی کے ترجمان شکتی سنگھ یادو نے کہا ہے کہ دونوں بھائیوں کے درمیان طاقت کی کوئی جنگ نہیں چل رہی ہے اور اتوار کو جو ہوا وہ صرف انسانی غلطی تھی۔ ترجمان نے کہاکہ تیج پرتاپ یادو پہلے ہی تیجسوی کو مستقبل کا وزیر اعلیٰ کہہ چکے ہیں۔
بتادیں کہ ضمانت پر باہر آئے لالو پرساد یادو ابھی پوری طر ح سے سیاست میں سرگرم نہیں ہوئے ہیں ۔ لالو یادو ابھی دہلی میں ہی ہے۔ حالانکہ وہ لگاتار کچھ لیڈروں سے ملاقات کررہے ہیں ۔ اس درمیان بہار میں ان کی پارٹی میں دونوں بیٹوں کے درمیان اس طرح کی جنگ دکھائی پڑ رہی ہے ۔











