نئی دہلی:
نئی دہلی کے جنتر منتر علاقے میں مسلم مخالف نعرے بازی کے سلسلے میں ایڈووکیٹ اور بی جے پی کے سابق ترجمان اشونی اپادھیائے سمیت 6 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے یہ معلومات منگل (10 اگست 2021) کی صبح دی۔ ڈی سی پی دیپک یادو کے مطابق، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اشونی اپادھیائے سمیت 5 لوگوں کو دہلی پولیس حراست میں لے کر پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ اطلاع کے مطابق، ان سبھی سے چانکیہ پوری تھانے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔
دوسری جانب قومی اقلیتی کمیشن نے پیر کو مبینہ مسلم مخالف نعرے بازی کے معاملے میں پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کے حوالے سے سخت کارروائی کی جائے۔ کمیشن کے وائس چیئرمین عاطف رشید کی ہدایت پر تنظیم نے ڈپٹی کمشنر آف پولیس نئی دہلی کو نوٹس جاری کیا اور ان سے کہا کہ وہ منگل کو کمیشن کے سامنے پیش ہوں اور معاملے کی تفصیلات اور کی گئی کارروائی سے آگاہ کریں۔
اطلاع کے مطابق، مسلم مخالف تقریر معاملے میں بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے کے علاوہ جن افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، ان میں دیپک سنگھ، ونود شرما، دیپک ونیت کرانتی اور پریت سنگھ شامل ہیں۔ معاملے میں عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے بھی گزشتہ روز (پیر کے دن) اشونی اپادھیائے کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔ اشونی اپادھیائے رات 3 بجے کے قریب کناٹ پلیس پولیس اسٹیشن پہنچے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نعرے لگانے والوں کو نہیں جانتا ہوں۔ ویڈیو کی جانچ کی جائے اور صحیح پائے جانے پر قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہو۔
دراصل، اس معاملے مین گزشتہ پیر کی شام کو ہی اشونی اپادھیائے کو کناٹ پلیس تھانے بلایا گیا تھا۔ دہلی پولیس اشونی اپادھیائے اور دیگر نامزد افراد کی گرفتاری کے لئے چھاپہ ماری بھی کر رہی تھی۔ مانا جارہا ہے کہ کسی بھی وقت سبھی کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ دہلی پولیس نے کہا تھا کہ حادثہ میں شامل اشونی اپادھیائے اور دیگر کو گرفتار کیا جائے گا۔ دہلی پولیس کہہ رہی ہے کہ کسی بھی طرح کے فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ غور طلب ہے کہ اس سے پہلے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے اشونی اپادھیائے کے خلاف پولیس میں شکایت کرنے کے بعد ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی راجدھانی دہلی میں پارلیمنٹ سے کچھ ہی دور پر ایک مخصوص مذہب کو کھلے عام کاٹنے کی دھمکی دینے والے لوگوں کے خلاف دہلی پولیس کمشنر کو تحریری شکایت کرکے این ایس اے اور یو اے پی اے کے تحت سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ثبوت سامنے ہوتے ہوئے بھی کارروائی میں تاخیر آخر کیوں ہو رہی ہے؟
اشونی اپادھیائے نے پولیس کمشنر کو ایک خط لکھ کر صفائی دی۔ انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ 15 اگست کی طرح 8 اگست بھی ایک تاریخی دن ہے۔ 8 اگست 1942 کو ہندوستان چھوڑا آندولن شروع کیا گیا تھا۔ اس تاریخی دن کی سالگرہ منانے کے لئے ہی 8 اگست کو جنتر منتر پر سیو انڈیا فاونڈیشن کے ذریعہ ایک چھوٹا سا پوگرام منعقد کیا گیا تھا۔ پریت سنگھ این جی او کے صدر اور اروند تیاگی اس کے مہا منتری ہیں۔ میں اس تنظیم کا عہدیدار نہیں ہوں۔ یہ کوئی سیاسی، سماجی یا مذہبی پروگرام نہیں بلکہ 15 اگست کی طرح تاریخی ہندوستان چھوڑو آندولن کو یاد کرنے کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ آزادی کی 75 ویں سالگرہ (15 اگست 2022) سے پہلے سبھی انگریزی قانون ختم کرکے نیا قانون بنایا جائے۔ آر وی ایس منی، فیروز بخت احمد، لیفٹیننٹ جنرل وشنوکانت چترویدی، گجیندر چوہان اور میں صبح 11 بجے منچ پر پہنچے اور بھیڑ بڑھنے کے سبب 12 بجے پروگرام ختم ہوگیا اور ہم سب وہاں سے چلے گئے











