جے پور:
راجستھان کانگریس کے ریاستی صدر گووند سنگھ دوتاسرا نے ایک ایسا بیان دے دیا ہے جو پارٹی لائن سے بالکل مختلف ہے۔ دوتاسرا نے ساورکر کے ہندو راشٹر کی مانگ کو درست قرار دیا۔ جس کے بعد سے کانگریس کے سامنے ایک بے چینی کی کیفیت ہے۔
راجستھان کے وزیر تعلیم اور ریاستی صدر گووند سنگھ دوتاسرا نے جے پور پردیش کانگریس آفس میں اگست کرانتی دیوس کے موقع پر منعقد ایک پروگرام میں کہا ،’جب کانگریس کے رہنما آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے ، تب سنگھ کے ایک یا دو رہنما تھے ، جو اس میں دکھائی دیتے تھے ۔ ہم منع نہیں کرتے کہ ساورکر آزادی کی لڑائی میں شامل نہیں ہوئے،لیکن ان کی جس طرح سوچ تھی ان کے کام اور ان کی سوچ تھی ، وہ ہندو راشٹر کی بات کرتے تھے ، وہ کوئی گناہ نہیں ہے، کیونکہ اس وقت ہمارا ملک آزاد نہیںہوا تھا ۔
مزید گووند سنگھ نے کہاکہ اس وقت ملک آزاد نہیں ہوا تھا، ہر کوئی اپنی مانگ کے لیے آزاد تھا، جب ملک آزاد ہو گیا ،آئین کو قبول کرلیا پھر بی جے پی اور سنگھ نے ساورکر کے نظریے کو لے کر ملک کو توڑنے کاکام کررہی ہے ۔
حالانکہ بعد میں دوتاسر ا نے ساورکر کی معافی والی بات کو بھی کہالیکن تب تک اوپر والا بیان اپنا کام کرچکا تھا اور سمیلن میںموجود کانگریس لیڈر بھی ایک دوسرے کاچہرہ دیکھ کر سرگوشی کرنے لگے تھے ۔
بتادیں کہ ساورکر کے معاملے پر کانگریس نے اپنا موقف واضح کر رکھا ہے ۔ راہل گاندھی نے تو ایک یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ان کانام راہل گاندھی ہے، راہل ساورکر نہیں… مر جاؤں گالیکن معافی نہیں مانگوں گا۔











