اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اے لیڈران قوم خطا کار تم بھی ہو

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
اے لیڈران قوم خطا کار تم بھی ہو
75
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کلیم الحفیظ-نئی دہلی

جرم کرنا اور گناہ سرزد ہونا انسان کی فطرت اور سرشت میں شامل ہے۔انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو عمل کرنے میں بڑی حد تک آزاد ہے۔اسی لیے صرف انسانی سماج کو ہی بندشوں میں قید رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔اسی سماج کے لیے قانون بنتے ہیں۔یہی وہ گروہ ہے جسے منظم رکھنے اور قابو میں رکھنے کے لیے پولس اور فوج بنائی جاتی ہے۔اس کے باوجود بھی انسان شیطانی حرکتوں سے باز نہیں آتا اور ایسی شرمناک حرکت کردیتا ہے کہ انسانیت شرمسار ہوجاتی ہے۔جانوروں کے کسی سماج میں ایسی گھنائونی حرکتیں نہیں ہوتیں جیسی ہمارے مہذب انسانی سماج ہورہی ہیں۔کسی معصوم بچی کے ساتھ کئی کئی درندوں کا زنا کرنا،پھر اسے زندہ جلا کر ماردینا،کیا کسی جانورکے سماج میں کبھی اور کہیں ایسا ہوا ہے۔کسی بھیڑ،بکری،گائے،بھینس کے ساتھ اس کے نرہم جنسوںنے اجتماعی زنا بالجبر کا ارتکاب کیا ہے۔یہ تو خیر وہ جانور ہیں جو ہمارے ساتھ ہمارے گھروں میں رہتے ہیں،لیکن وہ جانور جو جنگلوں میں کھلے عام رہتے ہیں کیا وہاں بھی کوئی ایسا حادثہ ہوا ہے جس پر انسانوں کو شرمسار ہونا پڑا ہو۔ بھارت کایہ کیسا انسانی سماج ہے جہاں آئے دن انسانیت کا سر شرم سے جھکتا ہے؟کیا یہی بھارت کی پراچین سبھیتا ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں؟کیا یہی ہندو راشٹر کی تمہید ہے ؟آخر ماتھے پر تلک لگانے والوں کے ماتھے پر کلنک کیسے لگ جاتا ہے؟

دراصل گناہ اور جرم جیسا کہ میں نے عرض کیا انسانی فطرت میں ہے اوراس کو کنٹرول کرنے کے لیے ہی پولس،فوج،قانون،عدالت ہے، ہر مذہب میںجنت،دوزخ،نیکی ،بدی،سزا اور جزا کا تصور ہے۔مگر جب قانون نافذ کرنے والے ادارے متعصب ہو جائیں اور انسانوں کے درمیان بھید بھائو کرنے لگیں تو جرائم پر قابو پانا ناممکن ہوجاتا ہے۔جب انصاف امیرو غریب اور حاکم و محکوم میں فرق کرنے لگے تو مجرموں کے حوصلے بلند ہونے لگتے ہیں۔سماجی تفریق کو اگر مذہب کی سند حاصل ہوتو معاملہ زیادہ ہی سنگین ہوجاتا ہے ۔جیسا کہ ہندو دھرم کی کتابوں سے ظاہر ہوتا ہے ۔منو اسمرتی کے قوانین میں شودر اور برہمن کے لیے ایک جیسے گناہ پر الگ الگ سزائیں ہیں ،بلکہ برہمن اور اعلیٰ ذات کے لیے بہت سے جرائم پر سزائیں ہی نہیں ہیں ۔دھرم کے نام پر یہ غیر مساویانہ خیالات آج بھی کہیں نہ کہیںسماج میں جرائم میں اضافے کا سبب ہیں۔اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ملک میں کسی بھی حصے میں زنا بالجبر اور اس کے بعد قتل کردینے یا جلادینے کے واقعات ہوتے ہیں ان میں ننانوے فیصد متاثرین کا تعلق دلت اور شودر طبقات سے ہی ہوتا ہے یا وہ مسلمان ہوتا ہے۔خواہ وہ یوپی ہو،بہار ہو یا دلی ہو،ظلم کرنے والا ہمیشہ ہی طاقت ور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے خواہ وہ عددی قوت ہو یا معاشی و سیاسی۔مجھے ڈر ہے کہ آئندہ اس طرح کے واقعات میں کہیں اور اضافہ نہ ہو جائے کیوں کہ ملک کا حکمراں طبقہ منو اسمرتی کو نافذکرنا چاہتاہے۔

زنا بالجبر کے جرائم کے واقعات ملک بھر میں ہر سال لاکھوں ہوتے ہیں،ان میں سے بیشتر کی پولس رپورٹ بھی درج نہیں ہوتی،حالانکہ درج شدہ معاملات میں دس فیصد جھوٹے اور فرضی بھی ہوتے ہیں جو کسی دشمنی کے سبب لگائے جاتے ہیں ،اس کے باوجود اچھی خاصی تعداد حقیقی واقعات کی بھی ہے۔اخبارات کی سرخیوں میں صرف وہی واقعات آتے ہیں جو انتہائی شرمناک ہوتے ہیں اور جہاں مجرمین سفاکی پر اتر آتے ہیں۔پولس کا کردار بھی ان واقعات کو لے کر مشکوک ہے۔پہلے تو رپورٹ ہی درج نہیں کی جاتی اس لیے کہ مظلوم کمزور ہوتا ہے ا ور ظالم طاقت ورہوتا ہے۔ہمارے دیش کی پولس کا کرپشن میں اول درجے کا ریکارڈ ہے جسے کسی اور دیش کی پولس چاہ کر بھی نہیں توڑ سکتی ،ایسے میں ظالم ،مظلوم کو پولس کے دروازے پر پہنچنے ہی نہیں دیتا،کوئی پہنچ جائے تو پولس کی خاکی وردی اسے خوف زدہ کردیتی ہے۔اگر رپورٹ درج بھی کرلی جائے تو اس میں اتنی کمزوریاں چھوڑ دی جاتی ہیں کہ عدالت میں اس کی ہوا نکل جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی عوام کاپولس اور عدلیہ پرسے اطمینان اٹھتاجا رہاہے ۔

یہ بات بھی جگ ظاہر ہے کہ زیادہ تر معاملات میںمجرمین کو سیاسی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔اس لیے کہ ہر طاقت ور کسی نہ کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہے،اور آج کل سیاسی پارٹیاں کچھ کریں یا نہ کریں مجرمین کی پشت پناہی ضرور کرتی ہیں۔جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے ،مظلوم پولس کی سمت بھاگتا ہے اور مجرم سیاسی آقائوں کی طرف ،مظلوم کے پولس اسٹیشن پہنچنے سے پہلے ہی کسی نہ کسی نیتا کا فون پولس چوکی میں پہنچ جاتا ہے۔مجرمین کی پشت پناہی سیاست کی مجبوری ہے اس لیے کہ یہی باہوبلی مجرمین ووٹ دلواتے ہیں۔گائوں کے پردھان سے لے کر ملک کے پردھان منتری تک کا ایک ہی کام رہ گیا ہے کہ وہ مجرمین کی حمایت کریں۔گائوں کا پردھان ،جواریوں ،چھوٹے سٹہ بازوں،زنا خوروں کی حمایت میں چلا آتا ہے تو ملک کا پردھان منتری نیرو مودی اور وجے مالیہ کے راہ فرار میں سہولت پیدا کرتاہے۔ہونے کو تو مظلوم کے ساتھ بھی سیاسی لیڈر ہوتے ہیں مگر وہ حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہیں ،ان کے پیش نظر بھی مجرمین کو سزا دلوانا کم اپنی سیاست چمکانا زیادہ ہوتا ہے۔ایسے میں اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ متاثرین کو کچھ مالی مدد اورکچھ جھوٹی ہمدردیاں مل جاتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا۔

ملک کا عدالتی سسٹم بھی جرائم میں اضافہ کا سبب ہے۔انصاف میں تاخیر ظلم میں اضافہ ہی کرتی ہے۔کسی بھی معاملے کا فیصلہ کئی برسوں میں جاکر ہوتا ہے۔ان حالات میں اکثر و بیشتر ظالم ڈرا دھمکا کر صلح پر مجبور کردیتا ہے۔مظلوم کو گواہ بھی میسر نہیں آتے کیوں کہ کوئی شریف آدمی گواہی کے چکر میں نہیں پڑتا ،کہیں کوئی جوش میں آکر گواہ بن بھی جاتا ہے تو عدالت میں جاکر ٹوٹ جاتا ہے یا ظالم کی دھمکیوں میں آکر مکر جاتا ہے ،ظالم کے لیے جھوٹے گواہ ہر عدالت کے باہر اسی طرح ملتے ہیںجس طرح بڑے اسپتالوں کے باہر خون بیچنے والے۔انصاف خریدا بھی جاتا ہے۔عدالتی احاطے میں دلال انصاف کی بولی لگاتے ہوئے مل جائیں گے۔

اس کا حل کیا ہے ؟اس سوال کا جواب ذرا مشکل ہے۔جس طرح پانی کبھی نیچے سے اوپر کی سمت نہیں بہتا اسی طرح سماج میں اچھائی برائی کا معاملہ ہے ۔عربی کی کہاوت ہے کہ لوگ اپنے بادشاہ کے دین پر ہوتے ہیں ۔اس لیے سب سے پہلے حکمراں طبقے کو خود سے انصاف کرنا ہوگا۔اس کے بعد سیاست دانوں کو مجرمین سے مدد لینا چھوڑنا ہوگی تاکہ انھیں ان کی مدد پر مجبور نہ ہونا پڑے۔اگر مجرمیں کو سیاسی پشت پناہی حاصل نہ ہوتو ان کے حوصلے پست ہوجائیں گے ،پولس کو بھی اپنا کام کرنے میں آسانی ہوگی۔بیشتر معاملات میں حلقے کے داروغہ کو لائن حاضر کردیا جاتا ہے یا اس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے ۔مگر اس حلقے کے ایم ایل اے اور ایم پی کی برخواستگی کی آواز کہیں سے نہیں اٹھتی ،کیوں کہ آواز اٹھانے والوں کا تعلق بھی سیاست سے ہوتا ہے۔ہر تھانے سے ایم ایل اے کا حصہ مقر ر ہو تو سیاست کو کون جواب دہ بنا سکتا ہے ۔ ملک کے قوانین میں اگر یہ شق شامل کردی جائے کہ جس حلقۂ انتخاب میں جرائم میں اضافہ ہوگا یا گڑیا بالمیکی جیسے حادثات ہوں گے تو اس حلقۂ انتخاب کے نمائندے کو نہ صرف مستعفی ہونا ہوگا بلکہ وہ آئندہ بھی انتخاب نہیں لڑسکے گا۔ملک کی پولس کی تو ذمہ داری ہے کہ وہ چوکیداری کرے مگر ملک کے چوکیدار کی ذمہ داری بھی طے ہونا چاہئے۔

مجرم ہوں میں اگر تو گنہ گار تم بھی ہو
اے لیڈران قوم خطا کار تم بھی ہو

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN