مظفر نگر:
یوپی کے مظفر نگر میں’’ ہریالی تیج‘‘کو بھی کرانتی سینا نے مذہبی رنگ دے دیا ہے ۔ ہر سال اس تہوار پر خواتین بنا کسی کا مذہب پوچھے دکانوں یا بیوٹی پالروں میں جاکر مہندی لگواتی رہی ہیں، لیکن کرانتی سینا کو اس تیج پر کچھ زیادہ ہی کرانتی نظر آرہی ہے اور شہر میں گھوم گھوم کر چیکنگ کرنے لگے کہ مہندی لگانے والا شخص کہیں مسلم تو نہیں ہیں۔
ان لوگوں نے مسلم نوجوانوں کو خواتین کو مہندی لگانے سے روکنے کے لیے شہر میںچیکنگ مہم تک چلائی۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ کرانتی سینا کے لوگ یہ سب سرعام بازار میں کرتے رہے اور پولیس نے کسی کو روکا نہیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مظفر نگر میں کرانتی سینا کی کوئی متبادل سرکار ہے؟
کرانتی سینا پہلے ہی اعلان کرچکی تھی کہ ہریالی تیج کے موقع پر مسلم نوجوانوں کے ذریعہ ہندو خواتین کو مہند ی نہیں لگانے دی جائے گی ، اس سلسلے میں آج ان کے دکانوں پر چیکنگ کی گئی بندل بازار نئی منڈی میں کچھ نوجوان خواتین کے ہاتھوں میں مہندی لگاتے ملے تو ان سے پوچھ کچھ کی گئی تو وہ ہند نکلے۔
ریاستی جنرل سکریٹری منوج سینی نے تمام بیوٹی پارلروں اور دیگر دکانداروں سے اپیل کرتےہوئے کہا کہ وہ اپنے یہاں مسلم نوجوانوں سے نہ تو مہندی لگوائیں اور نہ ہی بال کٹوائیں، کیونکہ مسلم نوجوان بڑی تعداد میں لیو جہاد میں شامل کرتے ہیں اور مہندی لگانے کی آڑ میں وہ ہندو خواتین کو لیو جہاد کے جال میں پھنسا سکتے ہیں۔
پردیش جنرل سکریٹری منوج سینی نے کہاکہ ہم لوگ مہم چلا رہے ہیں کہ مسلم نوجوان کسی خاتون کو مہندی نہ لگائیں۔ ہم نے دکانداروں کو پہلےہی کہا تھا کہ اپنے یہاں کسی مسلم لڑکے کو نہ رکھیں۔ کیونکہ وہ اس کی آڑ میں لیو جہاد کو انجام دے سکتے ہیں۔
اس مہم میں پردیش جنرل سکریٹری منوج سینی، ضلع صدر ڈاکٹر یوگیندر شرما، مہیلا مورچہ منڈل صدر پونم اگروال، ضلع جنرل سکریٹری راجیش کشیپ ، شیلندر شرما، آشیش مشرا، بھانو مشرا، شینکی شرما ، امت کشیپ ، موہت تیاگی ، امت بابی شامل تھے ۔











