لکھنؤ:
اترپردیش کے کانپور میں ایک 45 سالہ مسلم شخص کوگھر سے باہر نکال کر گھسیٹنے ،سڑک پر گھمانے ،حملہ کرنے اور جے شری رام کے نعرے لگانے کے لیے مجبور کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ کئی لوگوں کے گروپ سے گھرے اس شخص کو بعد میں پولیس کو سونپ دیا گیا۔ مقامی لوگوں کی جانب سے بنائے گئے واقعہ کے فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس شخص کی بیٹی اس سے لپٹی ہوئی ہے ،اپنے والد کو بخشنے کی التجا کررہی ہے ۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ویڈیو فوٹیج میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس حراست کے دوران بھی اس شخص کو مارا پیٹا گیا۔ واقعہ ایک چوراہے سے قریب 500 کلومیٹر کی دوری پر پیش آیا جہاں پہلے دائیں بازو تنظیم بجرنگ دل نے میٹنگ کی تھی۔ میٹنگ میں کہا گیا تھا کہ علاقے کے مسلمان ،علاقے کی ہندو لڑکیوں کی مذہب تبدیل کرانے کی کوشش کررہےہیں ۔ مار پیٹ کی یہ واردات اس میٹنگ کے بعد ہی ہوئی ہے۔
کانپور پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایک مقامی باشندہ جو میرج بینڈ چلاتا ہے ، اس کے بیٹے اور آٹھ – دس نامعلوم لوگوں کے خلاف فساد کرانے کاالزام درج کیا ہے ۔ حملے کے شکار شخص کی شکایت پر یہ کیس درج کیا گیا ہے ۔ پولیس نے یہ انکشاف نہیں کیا ہے کہ یہ لوگ دائیں بازو تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں۔ پولیس نے کہاکہ جس لوگوں نے مار پیٹ کی ہے ان پر کارروائی کی جا رہی ہے ۔مار پیٹ کا شکار شخص ای رکشا ڈرائیور ہے جس کا اپنے ہندو پڑوسی سے قانونی تنازع ہے، اس شخص نے اپنی شکایت میں کہاکہ ’’ میں دوپہر میں ای رکشا چلا رہا تھا تبھی تمام ملزمین نے مجھے گالیاں دیں اور مارپیٹ شروع کردی۔ وہ مجھے اور میرے پریوار کو مارنے کی دھمکی دے رہے تھے ۔ پولیس کی وجہ سے میں بچ پایاہوں۔ اس شخص نے اب تک میڈیا سے بات نہیں کی ہے ۔
کانپور پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق علاقے میں آس پاس رہنے والے ہندو اور مسلم پریوار نےاس سال جولائی میں ایک دوسرے کے خلاف مقامی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی ،جہاں مسلم فریق نے حملے اور مجرمانہ دھمکی کی شکایت کی درج کرائی تھی ۔ اس کے بعد ہندو فریق کی جانب سے خاتون کی شائستگی کو مشتعل کرنے کے ارادے سے حملے کی شکایت درج کرائی تھی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس معاملے میں حال ہی میں بجرنگ دل شامل ہوگیا اور اس نے مسلم پریوار پر جبراً تبدیلی مذہب کا الزام لگایا۔ کانپور کی سینئر پولیس افسر روینا تیاگی نے کہاکہ ’ ہم نے مسلم شخص سے مار پیٹ کرنے والی ویڈیو کو دیکھا ہے ۔ شکارشخص کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور کارروائی کی جارہی ہے ۔











