الٰہ آباد :
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر اور اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں، کیونکہ ایڈیشنل چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ (اے سی جے ایم) عدالت نے پولیس کو اترپردیش کے ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ کی مبینہ فرضی ڈگری کی ابتدائی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ احکامات ضابطہ فوجداری کی دفعہ 156 (3) کے تحت دائر ایک درخواست پر جاری کیے گئے ہیں۔
بدھ کے روز اے سی جے ایم (پریاگ راج) نمرتا سنگھ نے چھاؤنی، پریاگ راج کے تھانہ انچارج کو کچھ نکات پرایک اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ۔ جس میں ہندی ساہتیہ سمیلن ،پریاگ راج کے ذریعہ نائب وزیر اعلیٰ کو جاری اترپردیش سال دوم کی ڈگری کی تصدیق نامہ شامل ہے ۔
معاملے میں درخواست گزار دیوکر ترپاٹھی نے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی)کی دفعہ 156 (3) کے تحت دائر درخواست میں موریہ کے خلاف فرضی تعلیمی ڈگریوں کے استعمال کے الزام میں فوجداری مقدمہ درج کرنے کی مانگ کی ہے ۔
دوسرا انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے فرضی ڈگریوں کی بنیاد پر ایک پٹرول پمپ بھی حاصل کیا۔ اے سی جے ایم نے معاملے کی اگلی سماعت 25 اگست مقرر کی ہے۔











