نئی دہلی:
مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے جمعرات کو کہاکہ کم سے کم 15 کروڑ بچے اور نوجوان ملک کے فارمل ایجوکیشن سسٹم سے باہر ہیں اور تقریباً 25 کروڑ آبادی خواندگی کی بنیادی تعریف سے نیچے ہے۔ دھرمیندرپردھان نے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری ( سی آئی آئی ) کے ذریعہ منعقد سالانہ کانفرنس کے دروان ’ روز گار کی تخلیق اور انٹرپرینیور شپ ‘کے موضوع پر اپنے خطاب میں یہ بات کہی۔
مرکزی وزیر تعلیم نے کہاکہ اگر ہم سرکاری، پرائیویٹ اور امداد یافتہ اسکولوں سےآنگن واڑی ، اعلیٰ تعلیمی ادارے اور مہارت سے جڑے پورے انتظامات میں 3 سے 22 سال کی عمر کے بچوں کی تعداد پر نظر ڈالیں تب یہ تعداد 53 کروڑ ہوتی ہے ،جبکہ ملک میں اس عمر گروپ کی آبادی 50 کروڑ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کم سے کم 15 کروڑ بچے اور نوجوان فارمل ایجوکیشن سسٹم سے باہر ہیں ۔
پردھان نے کہا کہ آزادی کے بعد کرائی گئی مردم شماری میں یہ پایا گیا ہے کہ آبادی کا 19 فیصد حصہ خواندہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزادی کے 75 سالوں کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں خواندگی شرح 80 فیصد پہنچ گئی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ 20 فیصد آبادی یا قریب 25 کروڑ آبادی خواندگی کی بنیادی تعریب کے نیچے ہے۔
اس سمت میں نئی قومی تعلیمی پالیسی کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے پردھان نے کہاکہ یہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ اگلے 25سالوں میں ان اہداف کو حاصل کرنے کا خاکہ ہے ،جبکہ ہم آبادی کے 100 سال پورے کریں گے ۔ انہوںنے کہاکہ پہلی بار ہماری سرکار نے تعلیم کے ساتھ مہارت کو جوڑا ہے اور یہ معاش زندگی کی سمت میں نئی پہل کو نشان زد کرتا ہے ۔
بتادیں کہ سرکار نے مالی سال 2021-22کے بجٹ میں تعلیمی میدان کے بجٹ میں سب سے زیادہ قریب پانچ ہزار کروڑ روپے کی کٹوتی کی ہے ۔











