دیوبند: (آر کے بیورو)
الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ میں نقب زنی کرکے ووٹر شناختی کارڈتیار کرنے والے ایک نوجوان کو سائبر تھانہ پولس نے گرفتار کیاہے ۔ملزم کے خلاف سائبر تھانے میں مقدمہ قائم کیاگیا اس نوجوان کا نیٹ ورک دہلی، مدھیہ پردیش اور راجستھان تک پھیلا ہوا ہے۔ دیگر ملزمان کو گرفتار کرنے اور جانچ کے لئے پولس ٹیمیں اور کئی جانچ ایجنسیاں لگی ہوئی ہیں۔
پولس کے مطابق تھانہ نکوڑ علاقہ کے گاؤں مچھر ہیڈی کا رہنے والا وپل سینی نے مدھیہ پردیش، دہلی اور راجستھان کے رہنے والے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کچھ روز قبل الیکشن کمیشن کے ویب سائٹ میں نقب زنی کرکے کئی لنک کے ذریعہ ویب سائٹ کھولی اور ووٹر شناختی کارڈ تیار کرنے شروع کردیئے۔
اس تحقیق کے لئے وزارت داخلہ نے دہلی کی کئی ایجنسیوں کو لگایا تھا اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ نکوڑ علاقہ کے گاؤں مچھر ہیڈی کے رہنے والے وپل سینی نے ویب سائٹ میں نقب زنی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ملزمان نے ووٹر شناختی کارڈ تیار کرکے بڑی رقم کمائی ہے۔ اس کا علم ہوتے ہی سائبر تھانہ پولس نے گذشتہ رات ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ قائم کرلیا۔پولس کے مطابق ملزم وپل سینی نے گاؤں میں ہی اپنا دفتر بنایا ہوا ہے جہاں پر وہ پین کارڈ،آدھار کارڈ،ووٹر آئی ڈی کارڈ بنانے کا کام کرتا تھا۔
گرفتاری کے بعد ملزم وپل سینی نے تفتیش میں بتایا کہ دہلی کا رہنے والا ارمان ملک اس کا ساتھی ہے جو مدھیہ پردیش کے ہرسا کا رہنے والا ہے۔کچھ روز قبل ارمان سے اس کی ملاقات ہوئی تھی اس نے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ میں نقب زنی کرنے کا طریقہ بتایا تھا۔ پولس کی جانچ میں ارمان کے علاوہ تین نام اور سامنے آئے ہیں جو دہلی اور راجستھان کے رہنے والے ہیں۔
پولس نے وپل سینی کے بینک اکائونٹ سے رات میں ہی ایک بینک کو کھل واکر جانچ کی گئی تو معلوم ہوا کہ وپل سینی کے اکاؤنٹ میں 45لاکھ روپے جمع ہیں۔اس کے علاوہ وپل سینی کے دفتر میں ائیر کنڈیشنر بھی لگا ہے اور ساتھ ہی مکان تیار کرانے میں بھی اس نے کافی پیسا خرچ کیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دوسرے ملزم ارمان نے وپل سینی سے ہر ووٹر شناختی کارڈ پر 20سے30روپے دینے کی شرط رکھی تھی۔وپل سینی نے پولس کو بتایا کہ وہ اور اس کے ساتھی اب تک 30000سے زائد ووٹر شناختی کارڈ تیار کرچکے ہیں۔ایسے میں مشتبہ افراد کے ووٹر شناختی کارڈ تیار کرانے کی بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔پولس اس پہلو پر بھی جانچ کررہی ہے۔پولس کے مطابق وپل سینی شاطر قسم کا نوجوان ہے اسے انٹر نیٹ اور ویب سائٹ کے تعلق سے بڑی معلومات ہے ۔
اس نے گنگوہ کے ایک تعلیمی ادارے سے بی سی اے کی تعلیم حاصل کی ہے۔ملزم تقریباً گزشتہ چھ ماہ سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ووٹر شناختی کارڈ تیار کرنے کا کام کررہا تھا۔اس سلسلے میں سہارنپور کے ایس ایس پی ڈاکٹر ایس چنپا نے بتایا کہ گرفتار کئے گئے ملزم کے خلاف سائبر تھانہ میں مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔پولس ہر پہلوسے جانچ کررہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وپل سینی نکوڑ علاقہ میں اپنے کمپیوٹر کی دکان میں فرضی طور پر ہزاروں کی تعداد میں شناختی کارڈ تیار کئے تھے ۔ایس ایس پی کے مطابق سینی الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ میں اسی پاسورڈ کے ذریعہ لاگ ان کرتا تھا جس کا استعمال الیکشن کمیشن کے افسران کرتے تھے ۔کمیشن کو کچھ گڑبڑی کا اندیشہ ہوا اور اس نے جانچ ایجنسیوں کو اس کی اطلاع دی ۔ایجنسیوں کے جانچ کے دوران وپل سینی شک کے دائرے میں آیا اور انہوں نے سہارنپور پولس کو سینی کے سلسلے میں معلومات دی ۔
انہوں نے بتایا ایک شناختی کارڈ تیار کرنے کے عوض میں اسے 100سے 200سو روپئے ملتے تھے ۔انہوں نے بتایا ملزم کے دوسرے ساتھیوں کا پتا لگایا جارہا ہے۔ملزم کن کن افراد کے رابطہ میں رہا ہے اس کی بھی جانچ شروع کردی گئی ہے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کی وائب سائٹ کو ہیگ کرنے کا انکشاف ہونے کے بعد سہارنپور سے لے کر دہلی تک کھلبلی مچی ہوئی ہے۔خفیہ ایجنسیاں نے اس معاملہ کی جانچ شروع کردی ہے۔
دی کوئنٹ کے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے سہارنپور کے ایس پی ، سٹی راجیش کمار نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ ہیکنگ کیس میں گرفتار وپل سینی نے اعتراف کیا ہے کہ اب تک اس نے دس ہزار سے زائد ووٹر کارڈ شائع ہیں اور وہ ہر کارڈ کے لیے 100 لیتے تھے۔
راجیش کمار کے مطابق ، ملزم پین کارڈ بنانے والا سروس فراہم کرنے والا ہے ، لیکن گزشتہ 2 ماہ سے وہ مبینہ طور پر الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ ہیک کرکے غیر قانونی طور پر ووٹر کارڈ بناتا تھا۔پولیس نے اس پر آئی پی سی کی دفعہ 420 اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 65,66,72,73,74کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے ۔











