لکھنؤ:
اترپردیش کے کانپور میں ایک 45 سالہ مسلم رکشا ڈرائیور کو پیٹ پیٹ کر ‘’جے شری رام‘ بلوانے کے الزام میں گرفتار کئے گئے تین ملزمین کو تھانہ سے ہی ضمانت مل گئی ہے ۔ بجرنگ دل کے لوگوں نے ملزمین کو چھڑوانے کے لیے رات تک ڈی سی پی دفتر کے باہر زبردست احتجاج کیا۔ جس رکشا والے کو پیٹا تھا اس کا پریوار اس واقعہ سے دہشت میں ہے ۔ بے گناہ کو سرعام پیٹنے والوں کو آزاد کرانے کے لیے یہ احتجاج کیا گیا ۔ ایک بجرنگ دل کارکن نے کہاکہ ’بجرنگ دل کانپور کے ہندو سماج کو یقین دلاتا ہے کہ جس کے بھی ذریعہ ہمارے دھرم پر حملہ کیا جائے گا تو ہندو پریشد ،بجرنگ دل خاموش نہیں بیٹھنے والا ۔ جنہوں نے جنہیں آزاد کرانے کے لیے احتجاج کیا جا رہا تھا ، وہ اس واقعہ کے ملزم ہے ۔ یہ ملزم سر عام مسلم رکشا والے ابصار کو پیٹ پیٹ کر ’جے شری رام ‘ بلوانے کے لیے مجبور کرتے رہے۔ اس شخص کی معصوم بچی چیخ چیخ کر اپنے والد کو بخشنے کی التجا کرتی رہی لیکن ان کادل نہیں پگھلا ۔
ابصار پر نہ کوئی الزام ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی ایف آئی آر ہے۔ اس کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اس خاتون کا دیور ہے جس سے اس کی ایک ہندو پڑوسن کاجھگڑا ہوا ہے۔ اس واقعہ کے پہلے بجرنگ دل نے علاقہ میں میٹنگ کی تھی ۔ ابصار کی پٹائی کی تصاویر ٹی وی میں دیکھ کر گاؤں میں رہنے والی اس کی ماں کانپور آئی تو ماں – بیٹا لپٹ کر خوب رئے۔ ابصار کی بیوی نے بتایا کہ والد کی اس طرح سڑک پر پٹائی سے ان کی بچی پر بہت برا اثر ہوا ہے ۔ ابصار کی بیوی روبینا کہتی ہے کہ بچی دہشت میں آگئی ہے ۔ اس کے من میں دہشت ہے، کھانا پینا بالکل نہیں کھا رہی ہے اورنہ ہی کھیل رہی ہے ۔ وہ صرف ڈر رہی ہے کہ ہم لوگوں کو مار نہ دیں۔
کانپور کی کچھی بستی میں جھوپڑ پٹی ہے ان میں قریشہ اور رانی پڑوسی ہے ۔ ایک دن قریشہ کا بیٹا ای رکشا سے گھر آیا تو اس کا پہیہ رانی کے دروازے سے ٹکرا گیا اور اسی سے جھگڑا ہو گیا۔ 12 جولائی کو قریشہ نے رانی اور اس کے شوہر پر مار پیٹ کی ایف آئی آر لکھوائی۔ 31 جولائی کو رانی نے قریشہ کے تین لڑکوں کے خلاف چھیڑ چھاڑ کی ایف آئی آر لکھوائی ۔ جس قریشہ سے رانی کا جھگڑا ہوا ہے ، وہ چھوٹی بستی میں گھوم گھوم کر چوڑیاں بیچنے کا کام کرتی ہے ،جھگڑے کی وجہ سے ان کا باہر نکلنا بند ہو گیا ہے ۔











