نئی دہلی:
دہلی کے جنتر منتر پرمسلم مخالف اور اشتعال انگیز بیانات دینے کےالزام میں بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے سمیت چھ لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس جانچ میں پتہ چلا ہے کہ ملزمین میں سے ایک ہندو سینا کےصدر دیپک سنگھ ہندو کو سیو انڈیا تنظیم کے صدرپریت سنگھ نے پروگرام میں مدعو کیا تھا۔
دی وائر نے پی رپورٹ میں بتایا کہ پریت سنگھ بی جے پی رہنما اشونی اپادھیائے کے جاننے والے ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ڈی ایس پی(نئی دہلی)دیپک یادونے بتایا کہ ان کے پاس دستاویز ہیں،جن سے پتہ چلتا ہے کہ اپادھیائے اور پریت سنگھ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا،‘ہمیں پتہ چلا ہے کہ اپادھیائے نے پروگرام کے انعقادکے لیے اپنی درخواست میں پریت سنگھ کے نام کا ذکر کیا تھا۔ جانچ جاری ہے۔
بتا دیں کہ اس معاملے میں عدالت نے اپادھیائے کو ضمانت دے دی تھی۔ اس معاملے میں دیپک سنگھ ہندو اور پریت سنگھ کے علاوہ پولیس نے سدرشن واہنی کے چیف ونود شرما، دیپک کمار اور ونیت باجپائی کرانتی کو گرفتار کیا تھا۔معاملے میں ملزم پنکی چودھری کو پچھلے ہفتے ہی پیشگی ضمانت دی گئی تھی۔سینئر پولیس افسر نے کہا،‘ہمیں دیپک سنگھ ہندو اور ونیت کی پولیس کسٹڈی ملی ہے۔ پوچھ تاچھ کے دوران دیپک نے کہا کہ وہ غازی آباد کے ڈاسنہ دیوی مندر کے پجاری یتی نرسنہانند سرسوتی کا پیروکار ہے اسے اتوارکو جنتر منتر پر پریت سنگھ نے بلایا تھا۔










