علی گڑھ :
نامور مجاہدین آزادی اور ممتاز خواتین کی خدمات کااعتراف کرنے کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے طالبات کے 6؍ ہاسٹل ان کے نام سے موسوم کئے ہیں۔ ان میں بیگم حضرت محل، مسز اینی بیسنٹ، نواب سکندر جہاں (بھوپال) ، میڈم بھیکا جی کاما ( ممتاز مخیر اور خواتین کے حقوق کے لئے سرگرم کارکن)، حامدہ حبیب اللہ ( ہندوستانی پارلیمنٹیرین اور سماجی جہدکار) اور کادمبنی گانگولی (ہندوستان میں طب کی پریکٹس کرنے والی اولین خاتون) شامل ہیں۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے بیگم عزیزالنساء ہال میں ان 6؍ہاسٹلوں اور ایک اے ٹی ایم کیوسک کا افتتاح یوم آزادی کے موقع پر کیا۔ پرچم کشائی کے بعد بیگم عزیز النساء ہال کے احاطے میں افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔پروفیسر منصور نے اس موقع پر کہا کہ معزز شخصیات جن کے ناموں سے ہاسٹلوں کو موسوم کیا گیا ہے وہ خواتین کی نسلوں کو متاثر کرتی رہیں گی۔
وائس چانسلر نے اڈنسونیا ڈجیٹاٹاکا ایک نایاب پودا بھی لگایا جو جنوبی افریقہ کا پودا ہے اور جسے لینڈ اینڈ گارڈن، اے ایم یو کے سابق ممبر انچارج پروفیسر شجاع الدین نے بیگم عزیز النساء ہال کو تحفے میں دیا۔انہوں نے ہال کے احاطے کو سرسبز و شاداب بنانے کے اقدامات کو بھی سراہا جہاں دو ہزار سے زائد پودے لگائے گئے ہیں ، جس میں کمیاب ادویاتی پودے بھی شامل ہیں۔وائس چانسلر نے ملک کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ پروگرام کے ایک حصے کے طور پر منعقدہ آن لائن قومی مضمون نویسی مقابلے کے نتائج کا بھی اعلان کیا۔
پرووسٹ پروفیسر صبوحی خان نے جاری سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ 2019 میں شروع کی گئی شجرکاری مہم میں بڑے پیمانے پر پودے لگائے گئے ہیں، جن میں 400 ؍ادویاتی پودے، 565 ؍پھول دار درخت، 205 سجاوٹی درخت، 310 پھل دار درخت، 765 سایہ دار درخت اور 591 گملوں کے پودے شامل ہیں۔ انھوں نے اظہار تشکر بھی کیا۔اس موقع پر رجسٹرار مسٹر عبدالحمید (آئی پی ایس)، ویمنس کالج کی پرنسپل پروفیسر نعیمہ خاتون گلریز، سابق ایم آئی سی لینڈ اینڈ گارڈن، پروفیسر شجاع الدین، ہاسٹلوں کے وارڈن اور دیگر اساتذہ موجود تھے۔










