لکھنؤ:
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمنٰ برق نے اپنے ایک بیان میں طالبان کا موازنہ مجاہدین آزادی سے کیا جس کے بعد ان کے خلاف سنبھل میں ’دیش دروہ ‘ملک سے غداری کا کیس درج ہو گیا ہے ۔ سنبھل صدر کوتوالی میں تعزیرات ہند ( آئی پی سی ) کی دفعہ 153A, 124 A, 295 Aکے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ غور طلب ہے کہ اترپردیش کے سنبھل سے ایس پی کے رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق نے کہا تھا کہ طالبان اپنے ملک کی آزادی کے لیے لڑرہے ہیں اور افغان لوگ اس کی قیادت میں آزادی چاہتے ہیں۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بات چیت میں طالبان کی حمایت میں آتےہوئے برق نے کہا تھا کہ ’جب بھارت ‘برطانوی راج کے تحت تھا ، ہمارا ملک آزادی کے لیے لڑا تھا۔ اب طالبان اپنے ملک کو آزاد اور چلانا چاہتے ہیں۔ طالبان وہ قوت ہے جس نے روس اور امریکہ جیسے مضبوط ممالک کو اپنے ملک میں آباد نہیں ہونے دیا۔ ‘
واضح رہے شفیق الرحمن برق کے بیان کےبعد مخالف پارٹیوں کے لوگ ان کی زبردست تنقید کر رہے تھے اور بی جےپی نے تو ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اے بی پی نیوز پورٹل پر شائع خبر کے مطابق سنبھل کے ایس پی نے بتایا ’’ہمیں شکایت موصول ہوئی ہے کہ رکن پارلیمنٹ شفیق الرحمٰن برق نے طالبان کا موازنہ مجاہدین آزادی سے کیا اور ایسے بیان ملک دشمنی کے دائرےمیں آتےہیں اس لئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ دواورلوگوں نے فیس بک پر ایک ویڈیو میں ایسی ہی بات کہی ہے اس لئےان کےخلاف بھی کیس درج کر لیا گیا ہے۔‘‘
شفیق الرحمٰن برق کے بیان کی تنقید اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی کی۔انہوں نے کہا کہ ’’میں ایک پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کا بیان سن رہا تھا وہ طالبان کا بڑا بے شرمی سےحمایت کر رہے تھے ۔‘‘ادھر اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نےبھی شفیق الرحمٰن برق پر حملہ کرتے ہوئے کہا ’’سماجوادی پارٹی میں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔کچھ ایسےلوگ ہیں جو جن من گن نہیں گا سکتے ۔ کچھ طالبان حامی بھی ہو سکتےہیں ۔‘‘
شفیق الرحمٰن برق کے جس بیان پر ہنگامہ ہوا ہے اس میں انہوں افغانستان پر قبضہ کا موازنہ ہندوستان پر انگریز وں کے قبضہ سےکیا ہے اور کہا کہ جب انگریز حکومت کو ہٹانے کےلئے ہندوستان نے جدو جہد کی، ٹھیک اسی طرح طالبان نے بھی غیر ملکیوں سے افغانستان کو آزاد کرایا ۔انہوں نےطالبان کی تعریف کرتے ہوئے کہا انہوں روس اور امریکہ جیسےطاقتور ملکوں کو اپنے ملک میں ٹھہرنےنہیں دیا۔









