ایودھیا :
رام للاکے مندر تعمیر کی توسیع کے دوران شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے ذریعہ خریدی گئی زمین کو لے کر پیدا ہوا تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہاہے ۔ سال 1949 میں شری رام جنم بھومی کمپلیکس میں رام للا کی مورتی بٹھانے کے ملزم رہے آنجہانی ابھیرام داس کے شاگرد اور رام مندر معاملے میں ہندو فریق رہے دھرم داس نے 4 زمین کی خرید وفروخت میں بدعنوانی کاالزام لگاتے ہوئے بیچنے والے اور خریدار کے نام اورگواہوں کے نام ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تھانہ رام جنم بھومی میں تحریر دی ہے ،حالانکہ انتظامی طور پر ابھی کوئی بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی افسر عوامی طور پر اس معاملے میں اپنا موقف رکھنے کے لیے تیار ہے ۔
رام مندر معاملے میں ہندو فریق رہے دھرم داس نے الزام لگایا کہ رام مندر تعمیر کے لیے جمع کئے گئے فنڈ کا غلط استعمال کیا جا رہاہے ۔ ساتھ ہی نزول کی زمین (جسے بیچنے اور خریدنے کا حق صرف سرکار کے پاس ہوتا ہے ) خرید ی اور بیچی جا رہی ہے ، اس میں متعلقہ رجسٹرار کا نام بھی تحریر میں شامل کیا گیا ہے ۔
تحریر میں جنہیں ملزم بنایا گیا ہے ان میں شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری اور ٹرسٹ کے ممبرڈاکٹر انل مشرا، ٹرسٹ کے تمام عہدیدار اور ممبر اور زمین کی خرید وفروخت معاملے میں گواہ جس میں کئی ایودھیا کے سینئر لیڈروں کا بھی نام ہے اور گئوسائی گنج کے ایم ایل اے اندر پرتاپ تیواری عرف کھبو تیواری کا نام شامل ہے۔









