نئی دہلی :
افغانستان میں طالبان کوحکومت کو تسلیم کرنے کے معاملے پر بھارت اس بار ’ دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر کام کررہا ہے ۔ 1996 سے 2001 کے دوران طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے والے بھارت نے اس بار دیگر جمہوریت ممالک کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بھارت سرکار کے ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے لیڈروں کے رویہ کو کچھ دنوں تک دیکھنے اور دنیا کے دیگر جمہوری ممالک کے فیصلے کی بنیاد پر کچھ سوچا جائے گا۔ پورےمعاملے کی جانکاری رکھنے والے ایک ذرائع نے کہاکہ ہم طالبان کو تسلیم دینے والے ممالک میں آگے نہیں رہیں گے ، لیکن ڈیموکریٹک بلاک کے ساتھ جائیں گے اور موجودہ حالات کاجائزے لیتے ہوئے ہی کوئی فیصلہ لیں گے ۔
عالمی سیاست کی سمجھ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کواڈ تنظیم یا دیگر مغربی ممالک کے فیصلوں کی بنیاد پر بھارت کوئی فیصلہ لے سکتا ہے۔ طالبان کو تسلیم کرنے کو لے کر بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو فروغ نہ دینے اور شہریوں کے ساتھ اچھا سلوک رکھنے کی مانگ کی جاسکتی ہے۔ ان شرائط کی بنیاد پر ہی طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے پر غور وخوض کیا جائے گا ۔ فی الحال طالبان نے افغانستان میں باضابطہ طور پر اپنی حکمرانی کااعلان نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی طرح کا انتظام تیار ہوا ہے ۔ لیکن روس ،چین ،ترکی اورایران جیسے ممالک نے اس کی حمایت کرنا شروع کردی ہے ۔
روس نے تو یہاں تک کہہ چکا ہے کہ کابل کے حالات اشرف غنی کی حکومت سے بہتر ہیں۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد اس ملک کا نام بدل کر اسلامی امارت افغانستان رکھا گیا۔ بھارت ، امریکہ ، برطانیہ سمیت کئی ممالک کی تشویش یہ ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کو تحفظ نہیں ملنا چاہیے۔ برطانیہ نے اسی طرح کی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار پھر القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ابھر سکتی ہیں اور پوری دنیا میں دوبارہ دہشت گردی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔









