نئی دہلی:
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا حکومت ہند کو متوجہ کر تی ہے کہ اسے طالبان سے معنی خیز مذاکرات کے ذریعہ جنوبی ایشیاء کے سیاسی حالات میں اہم کلیدی رول ادا کرنا چاہیے۔
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے قومی صدر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ بھارت جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اس وقت ایک غیر مستقل رکن ہے، اسے اپنی اس پوزیشن کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان کے بدلے ہوئے حالات پر ایک بین الاقوامی بحث کا آغاز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے تناظر میں ہمارے ملک کی ایک تاریخی حیثیت ہے لہذا ہمیں اپنی اس حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہیے کہ وہ ملک میں جمہوریت کو بحال کرے، افغانستان کے تمام شہریوں اور غیر ملکی باشندگان کے وقار اور سلامتی نیز اقلیتوں اور خواتین کے حقوق اور مفاد کو یقینی بنائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ طالبان اپنے اس عہد کو پورا کریں گے کہ افغانستان کی سر زمین کو کسی کے بھی خلاف استعمال کر نے کی اجازت نہیں دی جائے گی نیز ان کی یہ بھی کو شش ہو نی چاہیے کہ اس خطہ کے حالات بہتر اور مستحکم ہو ں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل کی کمیٹی برائے طالبان کا چیئر مین ہو نے کے ناطے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے تناظر میں بین الاقوامی برادری کے ریسپانس کو طے کرانے میں بھی کلیدی رول ادا کرے۔
انھوں نے مزید کہا کہ بھارت کو اپنے سفارتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اس بات کی بھی کوشش کرنی چاہیے کہ تمام بڑی طاقتوں اور علاقہ کے اہم ممالک کا افغانستان کی بدلی ہوئی صورت حال میںطالبان کے ساتھ سیاسی اور پالیسی امور میں رابطہ استوار ہوجائے۔ ڈاکٹر الیاس نے آگے کہا ہمیں ملک کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر افغانستان کے ساتھ خوشگوار دو طرفہ تعلقات استوار کرنے چاہیے اور اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ خطہ میں امن و سلامتی بحال رہے اور کسی قسم کا تناؤ اور بد امنی پیدا نہ ہونے پائے۔









