نئی دہلی (آر کے نیوز)
جامعہ ملیہ اسلامیہ کو منظم انداز میں اس کے اصل محور سے ہٹانے کی کوشش عرصہ دراز سے جاری ہے،ا گر موجودہ وائس چانسلر محترمہ نجمہ اختر صاحبہ کے دور میں ایسے عناصر کے حوصلے اور بلند ہوگئے ہیں،اور وہ شاید چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پارہی ہوں گی۔اور ایسے لوگ غیر محسوس طریقہ سے جامعہ کی رگوں سے اسلامی حمیت کا خون نکال رہے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ حال ہی میں سامنے آیا جس سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ بات کہاں تک رہ چکی ہے،جامعہ کے پروفیسر،ڈین ایچ او ڈی اور ایگزامنیشن حضرات کو شاید اس سے فرق نہ پڑے۔
جامعہ کے انٹرنس امتحان کے ایک ٹیسٹ میں پوچھا جاتاہے کہ بیت المقدس کہاں ہے اور آپشن میں فلسطین کا کوئی تذکرہ نہیں بلکہ اسرائیل کا نام ہے ،آخر ایسی حرکت کا کیا مقصد ہے،کون ہے اس شرارت کا ذمہ دار اسے کیا کوئی سزا ملے گی،کیا وہ اپنی غلطی کی معافی مانگے گا،لوگوں کا سوال ہے کہ محترمہ وی سی صاحبہ کوئی ایکشن لیں گی یا بتا آئی گئی ہوجائے گی۔









