دیوبند:(سمیر چودھری)
جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی کا افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد بڑا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ طالبان در اصل حضرت شیخ الہند کی تحریک سے متاثر ہیں۔مولانا سید ارشد مدنی نے دیوبند میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل بتائے گا کہ طالبان کا طریقہ کار اور راستہ ٹھیک ہے یا نہیں ، انہوں نے کہا کہ اگر طالبان افغانستان میں حکومت بنانے کے بعد تمام لوگوں کے ساتھ منصفانہ اور مساوی سلوک کریں گے تو پوری دنیا ان کی تعریف کرے گی اور پھر ہم بھی ان کے ساتھ ہیں لیکن اگر وہاں طالبان کی طرف سے ناانصافی اور زیادتی کی جائیگی، تو کوئی بھی ان کی حمایت نہیں کرے گا۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ کسی بھی حکومت کو چلانے کے لیے دو چیزیں بنیادی ہیں ، ایک مفاہمت اور محبت اور دوسرے ملک میں رہنے والی اکثریت اور اقلیت کے ساتھ مساوی سلوک کرنا۔ اگر وہ ملک میں محبت اور امن قائم کرتے ہیں نیز سب کے ساتھ ساتھ یکساں سلوک کرتے ہیں۔ان کی حکومت میں اگر لوگ اپنی عزت ، جان و مال اور ہر چیز محفوظ سمجھتے ہیں ، پھر ایسی حکومتیں کامیاب ہوتی ہیں اور پوری دنیا کامیاب حکومتوں کی تعریف کرتی ہے ، مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم طالبان کے لیے اچھی رائے رکھتے ہیں وہ غلط ہیں کیونکہ کسی کے بارے میں ہماری کوئی رائے نہیں ہے، لیکن مستقبل فیصلہ کرے گا کہ دنیا ان کے بارے میں کیا سوچتی ہے ، وہ اپنی حکومت میں تحفظ ، تعلیم ، صحت اور خواتین کی عزت کیسے کرتے ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان کو دیوبند سے جوڑنے کا طریقہ غلط ہے کیونکہ طالبان دراصل حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی تحریک سے متاثر ہیں ، جنہوں نے ہندوستان کی آزادی میں ریشمی رومال تحریک چلائی تھی ، حضرت شیخ الہند کی تحریک ملک کی آزادی کے لیے افغانستان تک پہنچی تھی جہاں ایک بڑا دھڑا اس میں شامل ہوا تھا ، لیکن شیخ الہند کی تحریک نامکمل رہنے سبب وہاں کے لوگوں نے شیخ الہند کی اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے کام کیا۔ جیسے ہم نے ہندوستان میں انگریزوں کو برداشت نہیں کیا اور ہمارے بزرگوں نے اس کے لیے بڑی لڑائی لڑی ہے ، اسی طرح طالبان بھی اپنے ملک میں کسی غیر کی طاقت کو برداشت نہیں کرتے اور اس کے لیے وہ ایک طویل عرصے سے لڑ رہے تھے۔مولانا نے کہا کہ یہ لوگ شیخ الہند جو دراصل دیوبند کے رہنے والے تھے اور انہوں نے ملک کی آزادی کے لیے بڑی جنگ لڑی ہے ، یہ لوگ ان کی تحریک سے متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اب شیخ الہند کی تحریک چلانے والے حقیقی لوگ افغانستان میں نہیں ہیں ، لیکن جن لوگوں نے انہیں تعلیم دی اور ان کی تحریک کو زندہ کیا وہ ان میں شامل ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاملے کو دارالعلوم دیوبند سے جوڑنا درست نہیں ہے کیونکہ دارالعلوم دیوبند پوری دنیا کے سامنے ایک کھلی کتاب ہے اور یہ پوری دنیا میں امن اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے ، ہم دارالعلوم دیوبند میں میں کیا پڑھاتے ہیں یہ سب جانتے ہیں اور اس میں حکومت کے لوگ بھی آکر کر دیکھتے ہیں،سب کو پتہ ہے کہ ہمارا سبق کیا ہوتا ہے ہم صرف امن و شانتی اور بھائی چارے کا پیغام دیتے ہیں اس کے بعد بھی کوئی اگر آنا چاہے کبھی بھی آ سکتا ہے دارالعلوم دیوبند کے دروازے سبھی کے لیے کھلے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان سے متعلق بھارت حکومت کا نقطہ نظر اور خارجہ پالیسی کیا ہے اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے ، کیونکہ حکومت کو اس سیاسی اور حکومتی معاملے کا فیصلہ خود کرنا ہے ، لیکن ہم ایک بات کو ایک بار پھر واضح کرنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ کہیں گے کہ طالبان کا اس کامستقبل فیصلہ کرے گا ، اگر طالبان سب کے ساتھ مساوی سلوک کریں گے اور ان کے ساتھ یکساں سلوک کریںگے تو پوری دنیا ان کی تعریف کرے گی جس میں ہم بھی ان کے ساتھ ہیں۔









