اردو
हिन्दी
جون 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

طالبان اور ہندوستانی مسلمانوں کا موقف!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
طالبان اور ہندوستانی مسلمانوں کا موقف!
539
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

قاسم سید

طالبان افغانستان پر بزور طاقت قبضہ کر چکے ہیں یہ ایک حقیقت ہے۔ طالبان بین الاقوامی برادری کی اکثریت کے نزدیک ایک دہشت گرد گروہ ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے وہ اب اسٹیک ہولڈر ہیں اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی 20سال لڑائی، تین کھرب ڈالر اور ہزاروں فوجی گنوانے کے باوجود طالبان کو ختم نہیں کرسکے یہ تلخ سچائی ہے۔ امریکہ نے طالبان کو فریق مان کر دو حہ سمجھوتہ کیا اور فوجی انخلاء پر اتفاق کیا یہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے ۔

’’جاہل،اجڈ،گنوار،وحشی،جلاد صفت،خونخوار،ظالم بے رحم،انسانی حقوق سے بے خبر، عورتوں کی آزادی کے بدتر دشمن ‘‘ فی الحال ہندوستانی خواہشات اور توقعات کے برخلاف افغانستان کی سرکار بنانے کی پوزیشن میں آگئے ہیں ۔مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ زبانی جمع خرچ کرنے والے ممالک جن میں امریکہ،جرمنی،فرانس وغیرہ شامل ہیں، بھی اصولی طور پر طالبان سے مذاکرات کی حمایت کررہے ہیں،حتیٰ کہ ہمارا دیرینہ دوست روس اور دیرینہ حریف چین طالبان کو تسلیم کرنے کو بے قرار ہیں ،سابق سوویت یونین کو روس میں سمیٹ دینے والے طالبان اس کے لیے شجر ممنوعہ نہیں رہے،وہ بیس سالہ جنگ اور اس میں عبرتناک شکست کو بھلا کر آگے بڑھ رہا ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے جانے سے خطہ میں جو خلا ہوا ہے اسے روس،چین- پاکستان اور ترکی مل کر پر کرنا چاہتے ہیں ۔ بدقسمتی سےاس میں ہندوستان کی بظاہر کوئی جگہ نہیں ہے۔

ہمارے خطے کی جیو پولیٹکل تیزی سے بدل رہی ہے، دشمن کے دشمن دوست سب کچھ بھلا کر آگے بڑھ گئے ہیں،جہاں تک ہندوستان کا معاملہ ہے وہ ’دیکھو اور انتظار کرو‘ کی پالیسی پر چل رہا ہے، اس کی کوئی مدت متعین نہیں ،حالانکہ ہم افغانستان کے ہزاروں سال سے قریبی دوست رہے ہیں،طالبان کے تعلق سے ہمارے شدید تحفظات ہیں،ان کا مضبوط پس منظر ہے۔قندھار کا واقعہ ذہن کی اسکرین پر چپکا ہوا ہے،وہیں طالبان کے پاکستان سے گہرے روابط کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔جو وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کے فراق میں رہتا ہے ،اگرچہ کہ طالبان نے کابل پر تسلط کے بعد ہندوستان کے سامنے دوستی کا ہاتھ پھیلا یا ہے اور کوئی مخالف بیان نہیں دیا۔ وہیں معتدل،لبرل چہرہ پیش کرنے کی جدوجہد میں لگا ہے ،مگر ہندوستان بات کرنے کو تیار نہیں بھلے ہی دیگر طاقتور ممالک کے لب و لہجہ میں اب وہ سختی نہیں امریکہ نے حسب عادت وروایت ہمیں دھوکہ دیا نہ امن کے عمل میں شریک کیا اور نہ انخلاء کے وقت اعتماد میں لیا اور اس وقت عملاً ہندوستان سفارتی میدان میں الگ تھلگ پڑگیا ہے،اس کے ساتھ ہندوتوا وادی طاقتیں ریڈیکل ہندو توا کو طالبان کے بہانے اور ریڈیکل کرنے کے امکانات ڈھونڈ رہی ہیں ۔

بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک ریڈیکل اسلام کا مقابلہ رہڈیکل ہندوتوا سے کرنا چاہتی ہیں۔ وہیں حکمراں بی جے پی کا ایک طبقہ طالبان کے ذریعہ انتخابی فوائد ڈھونڈرہا ہے اسے لگتا ہے کہ اس کے سبب بنیادی عوامی ایشو پس منظر میں چلے جائیں گے اور ہندو ووٹر جو دور چلا گیا ہے واپس آجائے گا وہ قومی مفادات کی بجائے انتخابی مفادات کو ترجیح دینا چاہتا ہے خواہ مستقبل میں ہمیں کتنا نقصان کیوں نہ ہو،جبکہ بی جے پی کا سنجیدہ طبقہ ایسا کوئی رسک لینے کے خلاف ہے۔مزید یہ کہ ملک کے سبکدوش فوجی افسروں کا با اثر طبقہ ’راشٹر بھکتی‘ میں ڈوبے ٹی وی چینلوں پر اپنے قیمتی مشوروں سے مستفید کرتا رہتا ہے وہ طالبان سے کسی بھی قسم کے رشتوں کے سخت خلاف ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ٹی وی چینلز کے سفارتی، جنگی اور خارجہ امور کے ماہر اینکر حضرات کا بس چلے تو وہ کابل جاکر طالبان پر بم برسا کر انہیں نیست و نابود کردیں،وہ ان کی سوچ کے برخلاف بات کرنے والے کو دیش دروہی،راشٹر ورودھی کی گالی تک دینے سے گریز نہیں کرتے،ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر حکومت ایسے جہاں دیدہ ماہر اینکرز کو خاجہ پالیسی ڈیسک کا حصہ کیوں نہیں بنالیتی ۔

وویک کاٹجو جیسے کئی سینئر ڈپلو میٹ جو افغانستان میں سفیر رہ چکے ہیں اگر وہ طالبان سے گفتگو کا مشورہ دیتے ہیں تو ان کو ٹرول کیا جاتا ہے اور ’نکو‘ بنادیاجاتا ہے۔ ایسے لوگوں سے سوال کیا جائے کہ پھر راستہ اور حل کیا ہے تو شور شرابہ کرکے سوال دبا دیا جاتاہے ،کوئی نہیں چاہتا کہ وہ دیش دروہی کے نام سے بدنام کیا جائے۔

معقول بات کہنے والوں کو پہلے پاکستان بھیجا جاتا تھا اب اس میں افغانستان کا نام بھی جڑ گیا ہے،بعض ہندوتوا عناصر جو بیانیہ تیار کررہے ہیں وہ بہت خطرناک اور فرقوں کے درمیان نفرت کو بڑھاوا دینے والا ہے،ان حالات میں مسلمانوں کو نشانہ پر لیا جارہا ہے۔ یوپی کے انتخابات میں طالبان کی انٹری ہوگئی ہے۔مسلم لیڈروں کے بیانات پر نظر رکھی جارہی ہے،کئی لوگوں پر ملک سے غداری کا مقدمہ ہوگیا ہے، ہمارے بعض محسنوں نے طالبان کو ہندی سلام بھیج کر مسلمانوں کی آزمائشیوں کو بڑھا دیا ہے، جہاں دوربین سے بیان کی باریکیاں تلاش کی جاری رہی ہوں وہاں الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر کچھ پرجوش لوگ شاید رد عمل میں یا ریڈیکل ہندوتوا کی طرف سے نازیبا تبصروں سے عاجز آکر ایسے باتیں کہہ رہے ہیں، جن سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ طالبان کی حمایت ہورہی ہے۔دیو بند میں اے ٹی ایس سینٹر بنانے کا اعلان بظاہر انتظامی امور کا حصہ ہے، مگر ٹائمنگ کسی اور طرف اشارہ کرتی ہے۔

جس ملک میں آزادی رائے کے حق کا مفہوم بدل دیا گیا ہو وہاں سوچ سمجھ کرالفاظ کا انتخاب کرنا بزدلی،خوف یا مصلحت نہیں ذہانت اور فطانت کی نشانی ہے،کیونکہ کوئی بھی معاملہ ہو مسلمانوں کو سیاسی ٹول بنالیا جاتاہے۔ طالبان سے رابطہ کرنا ہے نہیں کرنا ہے،کب کرنا ہے کیسے کرنا ہے یہ ہمارے سوچنے کا کام نہیں ،یہ سرکار کو طے کرنا ہے،یہ قومی پالیسی و مفاد کا حساس معاملہ ہے،مشورہ دینے میں کوئی برائی نہیں، مگر اصرار کرنا مناسب نہیں ہے ۔ ہر ہندوستانی کو قومی مفاد کو سامنے رکھنا ہوتا ہے،یہ بہت نازک پیچیدہ گتھی ہے ،بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے جوش میں ہوش نہیں کھونا چاہیے بعض حلقوں سے نادانیاں ہوئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک ایسا ویڈیو نظر آیا جہاں طالبان لیڈروں کی سرگرمیوں کے ساتھ ’ایک دیو بند کے علما‘ ترانہ ڈالا گیا ،کیا یہ صحیح ہے؟کیا اس طرح کی نادانیوں کی حمایت کی جاسکتی ہے اگر دوسرا کوئی دیوبند سے طالبان کا رشتہ جوڑے تو بجا طور پر اعتراض ہوگا،اس لیے جو کام حکومت کا ہے وہ اس پرچھوڑدینا چاہیے،اس پر بے صبری دکھانا،مبارکباد کے پیغامات ہمارے اصولی موقف کو کمزور کریں گے اور بے قصوروں کی آزمائشیں بڑھ جائیں گی۔
آخری بات جہاں تک طالبان کا تعلق ہے وہ دودھ کے دھلے نہیں ہیں،ان کے ماضی کو ہرگز نظر انداز نہیں کرسکتے،وہ اسلام سے زیادہ قبائلی عصبیت و نظام کو ترجیح دیتے ہیں،جو وہاں کے پیچیدہ قبائلی نظام کو نہیں سمجھتے وہ ان کو اسلام کا سچا نمائندہ سمجھتے ہیں،ان کی سفاکانہ کارروائیوں،خودکش حملوں ،قتل وغارت گری کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔اونچی شلواریں پہننا،نماز پڑھنا ،داڑھیاں رکھنا ہی اسلام نہیں ہے،طالبان اسلام کا نام لیتے ہیں تو اس کا عملی ثبوت پیش کرنا ہوگا۔دیکھنا ہے کہ وہ کس طرح کا شرعی نظام قائم کرتے ہیں،یہ ہندوستانی مسلمانوں کا ہی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں کا امتحان ہے۔ کیا طالبان اسلام کے سچے حقیقی عملی تصور کا مظاہرہ کرنےا ور نفاذ میں کامیاب ہوں گے۔ دنیا اس کا انتظار کررہی ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کو بھی صبرو تحمل کے ساتھ اس کاانتظار کرنا چاہئے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021

موجودہ دور میں مسلمان دل ودماغ جیتنے کی مہم چھیڑیں:امیر جماعت

فروری 28, 2023
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN