نئی دہلی :(ایجنسی)
سپریم کورٹ نے کہا کہ چارج شیٹ دائر کرتے وقت ہر ایک ملزم کو گرفتار کرنا ضروری نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 170کی چارج شیٹ دائر کرتے وقت ہر ملزم کو گرفتار کرنے کی ذمہ داری افسر پر عائد نہیں ہوتی۔
عدالت نے کہا کہ چارج شیٹ کو ریکارڈ میں لینے کے لیے ایک پہلے سے مطلوبہ رسمی حیثیت کے طور پر کچھ نچلی عدالتوں ملزموں کی گرفتاری پر زور دیتی ہیں۔ ان کی یہ روایت غلط ہے اور ضابطہ فوجداری عمل ( سی آر پی سی ) کی دفعہ 170 کی پالیسی کے برعکس ہے۔
دراصل پیشگی ضمانت کی درخواست خارج کرنے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی جس پر سماعت کرتےہوئے کورٹ نے کہاکہ نچلی عدالت کا ماننا ہے کہ جب تک شخص کو حراست میں نہیں لیا جاتا ، تب تک سی آر پی سی کی دفعہ 170 کے تحت چارج شیٹ کو ریکارڈ میں نہیں لیاجائے گا۔
جسٹس سنجے کشن کول اور ہریش کیش رائے کی بنچ نے کہا ، ’دہلی ہائی کورٹ اس نظریہ کو اپنانے والی واحد نہیں ہے ، دیگر ہائی کورٹس نے بھی اس تجویز پر واضح طور پر عمل کیا ہے اور دہلی ہائی کورٹ کے بعض فیصلوں کے مطابق ٹرائل کورٹ چارج شیٹ ماننے سے انکار نہیں کر سکتا کہ ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ سی آر پی ایف کی دفعہ170 میں نظر آنے والا لفظ ’حراست‘ ہے یہ لفظ پولیس یا عدالتی تحویل پر ذکر نہیں کرتاہے ۔ حراست کامطلب ہے کہ صرف چارج شیٹ داخل کرتے وقت جانچ افسر کے ذریعہ عدالت کے سامنے ملزم کی پیشی کرنا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر گرفتاریوں کو باقاعدہ بنایا جاتا ہے تو اس سے کسی شخص کی ساکھ اور عزت نفس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ گرفتاری کرنے کی طاقت کےوجود اور اس کے استعمال کے جواز کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ چارج شیٹ داخل کرتے وقت ملزم کو حراست میں لینا لازمی نہیں ہے ۔
بنچ نے کہاکہ تفتیش کے دوران کسی ملزم کو گرفتار کرنے کا موقع تب پیدا ہوتا ہے ، جب حراست میں جانچ لازمی ہو جاتی ہے یا جانچ گواہوں کو متاثر کئے جانے کا امکان ہے یا ملزم فرار ہو سکتا ہے ۔ سپریم کورٹ اترپردیش سے جڑے ایک معاملے کی سماعت کررہا تھا۔ نچلی عدالت نے چارج شیٹ کو ریکارڈ میں لینے سے پہلے ملزم کو حراست میں لینے کو کہا تھا ، جس کے بعد ملزم کےخلاف گرفتاری نوٹس جاری کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اسی گرفتاری نوٹس کو چیلنج دینے والی سدھارتھ کی اپیل پر یہ حکم جاری کیا کہ چارج شیٹ داخل کرتے وقت ہر ایک ملزم کو گرفتار کرنا لازمی نہیں ہے ۔
بنچ نے کہاکہ اس معاملہ میں اپیل کنندہ (ملزم سدھارتھ ) جانچ میں شامل ہوا تھا۔ جانچ پوری ہوچکی ہے اور ایف آئی آر درج ہونے کے سات سال بعد اسے جانچ میں شامل کیا گیا ہے ۔ بتادیں کہ کورٹ نے پایا کہ ملزم کے وکیل کے ذریعہ کہا گیا ہے کہ سمن جاری ہونے پر وہ عدالت کے سامنے پیش ہو جائے گا۔ عدالت نے اپیل کی اجازت دیتے ہوئے کہاکہ ایسی صورت حال میں گرفتار کرنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔ یہ کہتے ہوئے سپریم کورٹ نے الہ آباد کے حکم کے خلاف داخل ملزم کی اپیل کو قبول کرلیا ۔








