کابل : (ایجنسی)
کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ کے قریب کم از کم دو دھماکے ہوئے ہیں۔ یہ ایئرپورٹ کا وہ گیٹ ہے جسے شہریوں کے انخلا کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایک دھماکہ بیرون ہوٹل کے قریب ہوا جسے مغربی ممالک اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ پینٹاگون کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اس دھماکے میں متعدد امریکی اور عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ دھماکے کی جگہ سے ہلاک ہونے والوں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایئرپورٹ پر گن فائر کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دو دھماکوں میں متعدد امریکی اور افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ دوسری جانب طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ امریکی وزارتِ دفاع کے ترجمان جان کیربی کا کہنا ہے کہ کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے دھماکے میں امریکی فوجی اور عام شہری دونوں ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کے دروازے کے علاوہ قریب ہی واقع بیرن ہوٹل کے قریب بھی دھماکہ ہوا ہے۔
برطانیہ کی امورِ خارجہ اور قومی سلامتی کی حکمت عملی پر کمیٹیوں کی رکن ایلیشیا کیئرنز نے کا ہے کہ بیرن ہوٹل کے قریب ہونے والے دھماکے میں بھی کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
کابل ایئرپورٹ کے باہر دھماکے کے بعد ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں زخمیوں کو ہاتھ والی ریڑھیوں کی مدد سے اسپتال تک پہنچایا جا رہا ہے۔ ان تصاویر میں ان زخمیوں کے کپڑوں کو خون میں لت پت دیکھا جا سکتا ہے۔ افغانستان کے نجی میڈیا طلوع نیوز نے ٹوئٹر پر کچھ ایسی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں مرد، خواتین اور بچے ۔ جن میں سے کچھ نے اپنے سر پر ایک عارضی پٹی باندھ رکھی ہے۔ دھماکے کی جگہ سے محفوظ جگہ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے صحافی بلال سروری جو چند دن قبل کابل سے بیرون ملک جانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ انھیں اس دھماکے کی خبر ان کے ایک دوست نے دی جو ایئرپورٹ پر قطار میں کھڑا تھا اور دھماکے سے 15 منٹ قبل اس کی دستاویزات کی تصدیق ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے اطلاع دی تھی کہ کابل ایئرپورٹ پر داعش کے حملے کا خدشہ موجود ہے۔ کابل میں یہ افواہ کئی دنوں سے گردش کر رہی تھی۔ برطانیہ کے ایک دفاعی ذرائع نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ ابھی تک اس دھماکے میں کسی برطانوی فوجی کے جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ پر حالیہ دنوں میں ہی برطانوی فوجی تعینات کیے گئے تھے۔خیال رہے کہ ابے گیٹ کابل ایئرپورٹ کے ان تین گیٹس میں سے ایک ہے، جسے دہشت گردی کے حملے کے خطرے کے پیش نظر بند کر دیا گیا تھا۔ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا ہے کہ یہ دھماکہ ایک خود کش حملہ آور نے کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر جو بائیڈن کو بھی اس حملے کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔ابھی تک اس دھماکے میں نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ ایئرپورٹ پر گن فائر کی بھی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب نیٹو کے سکریٹری جنرل ہانس سٹولٹنبرگ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کابل ایئرپورٹ کے باہر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تنظیم کی ترجیح بدستور کم سے کم وقت میں جتنے افراد کو بھی ممکن ہو سکے محفوظ مقام تک پہچانا ہے۔











