ابوالکلام قاسمی شمسی
کورونا وائرس کی بیماری کی وجہ سے تعلیمی اداروں پر بہت خراب اثر پڑا ہے، ادارے بند ہیں، درس و تدریس کا سلسلہ منقطع ہے ، یہ معاملہ مدارس اور مکاتب کے ساتھ بھی ہے اور عصری اداروں کے ساتھ بھی ہے ، مگر اس کا سب سے زیادہ اثر مدارس پر دیکھنے کو مل رہا ہے ، جہاں تک دیگر تعلیمی ادارے اسکول ،کالج اور یونیورسٹیوں کی بات ہے تو یہاں اسکول سطح تک تعلیم بند ہے، مگر کالج اور یونیورسٹی سطح تک تعلیم کا سلسلہ آن لائن جاری ہے ، عصری اداروں نے آن لائن تعلیم کو اختیار کیا ،مگر اہل مدارس نے وسائل کی کمی کو بہانہ بناکر اوپر درجات کے لئے آن لائن تعلیم کا بھی انتظام نہیں کیا ، جبکہ یہ زیادہ مشکل نہیں تھا، آسانی سے عربی درجات کے لئے آن لائن تعلیم کا انتظام کیا جاسکتا تھا، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آن لائن انتظام سے بچنے کے لئے ہمارے کچھ علمائے کرام یہ کہنے لگے کہ آن لائن تعلیم میں وہ بات نہیں جو کلاس میں بیٹھ کر تعلیم دینے میں ہے ،یہ صحیح ہے کہ کلاس میں بیٹھ کر تعلیم دینے میں جو بات ہے، وہ آن لائن میں نہیں ہے ،لیکن اس بات کو ذہن میں رکھنے ضرورت ہے کہ یہ مجبوری میں عارضی متبادل انتظام یعنی آن لائن تعلیم کی بات کی جارہیہے۔
یہ لاک ڈاؤن اور بیماری کی وجہ سے ہے ،جب حالات ٹھیک ہو جائیں گے، تو آن لائن تعلیم کا سلسلہ خود بند ہو جائے گا ،اس لئے اہل مدارس سے اپیل ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں اور ان لائن تعلیم کا سلسلہ جاری کریں ، جب تک آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع نہ ہو یا مدارس نہ کھلیں ،اس وقت تک طلبہ کو ہدایت دی جائے کہ وہ خود سے مطالعہ کریں ،اور جو وقت بچ جائے اس میں عصری مضامین انگری ،حساب ،سائنس ،ہندی وغیرہ پڑھے، اس کے لئے ٹیوشن کی ضرورت ہو ٹیوشن پڑھیں ،تاکہ وقت برباد نہہوں اوریہ وقت کار آمد بن جائے، موجودہ وقت میں دینی علوم کے ساتھ ضروری حد تک عصری علوم کی بھی سخت ضرورت ہے ۔
مدارس کے ذمہ داروں کو بھی چاہئے کہ وہ طلبہ کی رہنمائی کریں اور گارجین کو بھی چاہئے کہ وہ اس جانب توجہ دیں ،طلبہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اوقات کو ادھر ادھر کے کاموں میں لگا کر برباد نہ کریں ،بلکہ اپنے قیمتی اوقات کو مطالعہ میں لگائیں اور باقی وقت میں عصری مضامین پڑھیں ، اللہ تعالیٰ وقت کو مناسب انداز پر استعمال کی توفیق دے اور تمام لوگوں کی حفاظت فرمائے۔










