چنڈی گڑھ (ایجنسی)
پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے میں صرف چند ماہ باقی ہیں۔ سال 2022 میں گوا ، منی پور ، پنجاب ، اترپردیش اور اتراکھنڈ میں اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ ان ریاستوں میں ، اترپردیش اور پنجاب سب سے زیادہ بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ پنجاب میں حال ہی میں پارٹی نے وزیراعلیٰ بدل دیا ہے۔ اس کے باوجود پارٹی کے ریاستی صدر نوجوت سنگھ سدھو اپنے عدم اطمینان کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
اے بی پی سی ووٹر کے ایک سروے کے مطابق پنجاب میں عام آدمی پارٹی کا جھاڑو چل سکتا ہے۔ وہیں پنجاب میں کانگریس کی سیاسی خلفشار کا فائدہ عام آدمی پارٹی کوملتا نظر آرہا ہے ۔ اترا کھنڈ کی بات کریں تو نئے وزیر اعلیٰ دھامی کی قیادت میں بی جے پی کی پکڑ اب بھی مضبوط ہے اور بی جے پی اقتدار میں واپسی کر سکتی ہے ۔
اترپردیش کے بعد سب سے زیادہ سیاسی ہلچل والی ریاست ان دنوں پنجاب بنی ہوئی ہے ۔ سروے کی بات کریں تو یہاں کانگریس کی سیاسی خلفشار کا فائدہ سیدھے طور پر عام آدمی پارٹی کو ملتا نظر آرہا ہے ۔ اگر ابھی انتخابات کرائے جاتے ہیں تو آپ کا ووٹ شیئر بھی سب سےزیادہ 36 فیصد رہ سکتا ہے ۔ وہیں کانگریس کو 32 اور اکالی دل کو 22 فیصد ووٹ حاصل ہو سکتے ہیں ۔
سروے کے مطابق عام آدمی پارٹی کو 117 میں سے 49 سے 55 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ اس حساب س آپ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھر سکتی ہے ، حالانکہ اکثریت کا اعداد وشمار پھر بھی دور ہے ۔ کانگریس کی بات کریں تو پارٹی کی سیٹوں میں بڑی گراوٹ آنے کااندازہ ہے ۔ کانگریس کو 39 سے 47 سیٹیں مل سکتی ہیں۔ اکالی دل صرف 17 سے 25 سیٹیں ہی جیت پائے گی۔ اس بار پنجاب میں بی جے پی الگ الیکشن لڑے گی ، حالانکہ اس کا سکہ چلتا دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ ایک سیٹ بی جے پی کے کھاتے میں جاسکتی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو 77، اکالی دل کو 15 اور آپ کو 20 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔
وہیں اترپردیش میں اگر ابھی الیکشن کرائے جائیں تو بی جے پی کو اکثریت ملنے کی پورامکان ہے ۔ وہیں اتراکھنڈ میں بھی بی جے پی کی پکڑ مضبوط ہے ۔ پارٹی سرکار بنانے کی پوزیشن میں ہے ۔ منی پور کی بات کریں تو یہاں پھر سے بی جے پی کی واپسی ہو سکتی ہے ۔ گزشتہ بار کے مقابلے سیٹیں بھی بڑھ سکتی ہیں ۔ گوا میں گزشتہ بار بی جے پی نے اتحاد کی سرکار بنائی تھی لیکن اس بار واضح اکثریت بھی مل سکتی ہے ۔
اتراکھنڈ بھی سیاست کے نقطہ نظر سے کم اہم نہیں ہے۔ بی جے پی نے ایک سال کے اندریہاںدو وزیر اعلیٰ بدل چکی ہے ۔ فی الحال پشکر سنگھ دھامی یہاں کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ حالانکہ سی ووٹر کے سروے کی بات کریں تو دھامی وزیر اعلیٰ کے طور پر لوگوں کی پہلی پسند نہیں ہیں۔ ہریش راوت بطور وزیر اعلیٰ لوگوں کی پہلی پسند ہیں۔
ریاست میں 37 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ ہریش راوت وزیر اعلیٰ بنیں۔ وہیں 24 فیصد لوگ پشکر دھامی کو پھر سے سی ایم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ 19 فیصدلوگ انل بلونی کو وزیر اعلیٰ کے طور پر پسند کرتے پیں۔ چوتھا نمبر عام آدمی پارٹی کے کرنل اجے کوٹھیال کا ہے جنہیں 10 فیصد لوگ پسند کرتے ہیں ۔
سروے کے مطابق دھامی کی قیادت میں اتراکھنڈ میں بی جے پی کی مضبوط گرفت ہے۔ اے بی پی سی ووٹر کے سروے میں کہا گیا ہے کہ اس بار بی جے پی کا ووٹ شیئر تھوڑا بڑھ سکتا ہے۔ اگر ابھی انتخابات ہوتے ہیں تو اتراکھنڈ کی کل 70 نشستوں میں سے 42 سے 44 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دوسری طرف کانگریس اتحاد 21 سے 25 نشستیں جیت سکتا ہے۔ اس بار عام آدمی پارٹی اتراکھنڈ میں بھی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ سروے کے مطابق آپ کو یہاں زیادہ فائدہ ملتا نظر نہیں آرہا ہے۔ پارٹی کو 0 سے 4 سیٹیں ملنے کی توقع ہے۔










