لکھنؤ : (ایجنسی)
یوپی اسمبلی انتخابات میں صرف چند ماہ باقی ہیں۔ اس دوران تمام ایجنسیوں نے سروے کرکے عوام کے مزاج کا رجحان دینا شروع کردی ہیں۔ اےبی پی نیوز -سی ووٹر کے سروے کے نئے نتائج ریاست میں حکمراں جماعت بی جے پی کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ اس کے مطابق تازہ حالات میں بی جے پی کا گراف گر رہا ہے ۔ اس کا فائدہ سماج وادی پارٹی کو مل رہا ہے ۔
یوپی میں کل 403 سیٹیں ہیں۔ اس میں سے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو 213 سے 221 سیٹیں ملتی نظر آ رہی ہیں، جبکہ بی جے پی کے حریف اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی قیادت والی سماج وادی پارٹی اور اتحادیوں کو 152 سے 160 سیٹیں مل رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بی ایس پی کے صرف 16 سے 20 امیدوار اور کانگریس کے 6 سے 10 امیدوار ایم ایل اے بن پائے ہیں۔
اس کے پہلے سروے میں بی جے پی کو 241 سے 249 سیٹیں مل رہی تھیں، یعنی نئے سروے میں پارٹی کو تقریباً 30 سیٹوں کا نقصان ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہیں، سماج وادی پارٹی کے کھاتے میں 130 سے 138 سیٹیں جا رہی تھیں، جس میں تقریباً 20 سیٹوں کا اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ اس کی وجہ سے سماج وادی پارٹی کا گراف واضح طور پر بڑھ رہا ہے۔
اس معاملے پر اے بی پی گنگا نیوز چینل پر سینئر صحافی پردیپ سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کی سیٹیں کم ہو رہی ہیں اور ایس پی کی بڑھ رہی ہیں، صرف سروے کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ سروے کے اعداد و شمار کسی حد تک تصویر کو صاف کرتے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے بارے میں عوام کے ذہن کو سمجھنے کے لیے ہمیں مزید انتظار کرنا پڑے گا۔
اے بی پی – سی ووٹر کے پری پول سروے کے تازہ ترین دور سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی کی جیت کی راہ مشکل ہوگی۔ سروے میں اترپردیش میں بھگوا پارٹی کی جیت کی پیشن گوئی کی گئی ہے ۔
پری پول سروے بتاتے ہیں کہ بی جے پی اور اس کے اتحادی ریاست میں اپنا مقام برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے، حالانکہ پارٹی کو تقریباً 108 سیٹوں کا نقصان ہوگا۔ دوسری طرف سماج وادی پارٹی کی سیٹیں بڑھ رہی ہیں۔










