سری نگر :
دہشت گردتنظیم سے جڑے ہونے ، اس کے لیے کام کرنے اور دہشت گردی سرگرمیوں میں شامل ہونے کے الزام میں 11 سال تک جیل کاٹنے کے بعد بشیر احمد باوا کو باعزت بری کردیا گیا ہے۔
اپنے آبائی ریاست جموں وکشمیر لوٹنے والے بشیر کا جو وقت برباد ہوا اور جو بدنامی ہوئی اس کی بھرپائی کون کرے گا؟ یہ سوال اس کمپیوٹر پیشہ ور ہی نہیں، ان تمام لوگوں کے من میں اٹھ سکتا ہے جو یو اے پی اے یا انسداد دہشت گردی قوانین میں طوعل عرصہ تک جیل میں رہنے کے بعد بے قصور مانے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ گجرات کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے بشیر احمد کو آنند سے 13 مارچ 2010 کو گرفتار کیا ، ان پر پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین سے جڑے ہونے اور اس کے لیے ’ریکی‘ کرنے یعنی کسی مقام پر جا کر اس کے بارے میں تفتیش کرنے کاالزام لگایا گیا۔
ان پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ 2022 کے گجرات فساد سے نوجوانوں میں پیدائے غم وغصہ کا فائدہ اٹھا کر وہاں حزب المجاہدین کو وسعت دینے گئے تھے۔ اے ٹی ایس نے کہاکہ بشیر احمد حزب المجاہدین سربراہ صلاح الدین اور بلال احمد شیرا سے فون کے ذریعہ رابطے میں تھے۔
لیکن وڈوڈرا کی ایک عدالت نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ایک بھی الزام ثابت نہیں کرسکا اور اس کے بعد 22 جون 2021 کو بری کردیا گیا۔
آنند ڈسٹرکٹ عدالت کے چوتھے سیشن جج نے87 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں ، کہا کہ اے ٹی ایس اس الزام کو پوری طرح سے ثابت نہیں کرسکا کہ ملزم کو دہشت گرد ماڈیول قائم کرنے کے لئے پیسے دئے گئے،نہ ہی یہ ثابت کیا جاسکا کہ ان کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے تھا۔
ان تمام معاملے میں بشیر احمد نے ’دی انڈین ایکسپریس‘ کو فون پر بتایا کہ وہ ہونٹ کٹے بچوں کی باز آباد کاری سے متعلق منعقدہ 15 روزہ تربیتی کیمپ میں حصہ لینے کے لیے آنند گیا تھا۔ انہیں سر ی نگر کے ایک ڈاکٹر نے صلاح دی تھی کہ وہ وہاں کینسر سے صحت یاب ہوئے لوگوں کے لیے ہو رہے ایک کیمپ میں بھی حصہ لے کر لوٹیں تاکہ ریاست میں مستقبل میں اس طرح کے کیمپ کاانعقاد کیا جاسکے۔
لیکن اے ٹی ایس نے اسے پکڑ لیا ، اسے حزب اللہ کا دہشت گرد بتایا اور ٹی وی کے سامنے پیش کردیا۔
اے ٹی ایس نے بتایا کہ بشیر احمد نے کیمپ کے ڈاکٹر کے لیپ ٹاپ کمپیوٹر سے حزب اللہ کو متعدد ای میلز بھیجےاور وہ کھانا کھانے یا نماز ادا کرنے کے بہانے کئی بار باہر نکلے ،انہوں نے کئی فون کال کئے اور ان کی سرگرمیوں کو مشکوک پایا گیا۔
بشیر احمد اپنے گھر واپس لوٹے، اس کے پہلے ہی ان کے والد غلام نبی باوا کاانتقال ہو گیا۔ وہ اپنے بیٹے کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے در در بھٹکتے رہے۔ جب ان کا بیٹا بے قصور ثابت ہو کر گھر لوٹا ۔ غلام نبی گھر تو کیا، اس دنیا میں ہی نہیں تھے، کینسر سے ان کی موت 2017 میں ہی ہو گئی۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ بشیر احمد صرف کینسر سے جڑے تربیت کے لئے آنند میںاضافی وقت کے لیے ٹھہرگئے تھے۔










