رائے پور : (ایجنسی)
چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے والد نند کمار بگھیل کو پولیس نے برہمن پر متنازع بیان دینے کے معاملے میں پیر کو راجدھانی رائے پور سے گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد نند کمار بگھیل کو رائے پور کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا ۔ بگھیل کے والد کے بیان پر تنازع پیدا ہونے پر سی ایم نے کارروائی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاتھا کہ ہماری سرکار میں قانون سے اوپر کوئی نہیں ہے، ایسے میں نند کمار بگھیل کی گرفتاری کے قیاس لگائے جارہے تھے ۔
جن ستا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں لکھنؤ میں منعقد ایک پروگرام کے دوران چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل کے والد نند کمار بگھیل نے برہمن سماج پر قابل اعتراض تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ووٹ ہمارا راج تمہارا نہیں چلے گا۔ ہم برہمنوں کو گنگا سے وولگا بھیجیں گے کیونکہ وہ غیرملکی ہیں۔ جس طرح سے انگریز لوگ آئے اور چلے گئے۔ اسی طرح سے یہ برہمن لوگ یا تو سدھر جائیں یا گنگا سے وولگا جانے کے لیے تیار ہوں۔
رائے پور میں نند کمار کے وکیل گجندر سونکر نے بتایا کہ انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے ۔ 21 ستمبر کو پھر سے عدالت میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے ۔ وکیل نے بتایا کہ نند لال نے ضمانت کے لیے درخواست نہیں کرنے کی ہدایت کی تھی۔ لہٰذا ضمانت کے لیے درخواست نہیں دی گئی ہے ۔
نند کمار بگھیل کے ان بیانات کے خلاف رائے پور پولیس نے دفعہ 153-A اور دفعہ 505-A کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس نے بگھیل کے خلاف فرقہ وارانہ ماحول خراب کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، چنانچہ انہیں رائے پور سے گرفتار کیا گیا۔
ادھربھوپیش بگھیل کے والد نند کمار بگھیل کے بیانات پر سیاسی گھمسان بھی تیز ہو گیا تھا۔ بی جے پی نے کانگریس کا گھیرا ؤ کیا تھا تو ترف برہمن سماج کے کچھ لوگوں نے گورنر سے ملاقات کرکے کارروائی کے لیے میمورینڈم سونپا تھا۔











