لکھنؤ: (ایجنسی)
اقتدار کی دوڑ میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے اپنی حریف بی ایس پی سپریمو مایاوتی سے مدد مانگی ہے۔ جی ہاں، یہ حقیقت ہے۔ اکھلیش یادو نے صاف کہا کہ مایاوتی جی انہیں آشیرواد دیں۔ نیوز 18 کے پروگرام ایجنڈا یوپی میں بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے انتخابات میں مایاوتی سے تعاون مانگا۔ پروگرام کے دوران اکھلیش یادو کو ایک تصویر دکھائی گئی جس میں وہ مایاوتی کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ یہ تصویر سال 2019 کی ہے جب لوک سبھا انتخابات میں ایس پی اور بی ایس پی کا اتحاد تھا۔ اس تصویر کو دیکھ کر انہوں نے کہا کہ ’یہ آشیرواد دیں اس بار، گزشتہ بار پورا تعاون کیا میںنے ،جتنا تعاون ہو سکتا ہے سماج وادیوں نے کیا اوراس بار میں اپیل کرتا ہوں کہ امبیڈکر وادی اورسماج وادی مل کر بی جے پی کا صفایا کریں۔
اب اکھلیش یادو کی اس اپیل پر مایاوتی کا کیا ردعمل آتا ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ ویسے مایاوتی کا اب تک کا موقف پوری طرح سے ایس پی کے خلاف رہا ہے۔ گزشتہ سال اسمبلی انتخابات کے دوران انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر انہیں ایس پی کو ہرانے کے لیے حمایت کرنا پڑی تو وہ کریں گی۔ بتادیں کہ اس بار یوپی کے اسمبلی انتخابات میں اکھلیش یادو نے دلتوں کے ووٹ بینک کو سمیٹنے کے لیے ایک مضبوط منصوبہ بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی ہر ریلی میں سماج وادی کے ساتھ امبیڈکرازم کی بات کی ہے۔ بی ایس پی کے علاوہ دوسری پارٹیوں سے بڑی تعداد میں الگ ہونے والے دلت لیڈروں کو بھی اپنے پالے میں کیاہے ۔
ابھی تک مایاوتی کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا
اکھلیش یادو کی کوشش ہے کہ بی ایس پی سے الگ ہونے کی صورت میں دلت ووٹ بینک بی جے پی کی طرف نہیں ان کی طرف ہی رخ کرے، اس لئے انہوں نے مایاوتی کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولا ہے ۔ بھلے ہی مایاوتی آئے دن ایس پی پر حملے کرتی ہوں۔ اگراب توانہوںنے مایاوتی سے آشیرواد ہی مانگ لیاہے۔ یوپی میں 23 فیصد کے تقریباً دلت ووٹ بینک ہے۔ اکھلیش یادو جانتےہیں کہ اگر ان کے ووٹ بینک کے ساتھ دلت آجائیں تو انہیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
ایس پی-بی ایس پی میں دو بار اتحاد ہو چکا ہے
واضح رہے کہ یوپی کی سیاست میں ایس پی اور بی ایس پی دو کھمبوں کی طرح ہیں۔ یہ ساتھ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف ہی رہے ہیں،لیکن دونوں پارٹیوںمیں دو بار اتحاد ہو چکا ہے۔ 1993 کے اسمبلی انتخابات میں اور 2019کے عام انتخابات میں ۔ عام انتخابات کے بعدمایاوتی نے ایس پی سے اتحاد توڑ لیا تھا ۔ تب سے لے کر اب تک ایس پی کے خلاف ہی ان کے بیان آتے رہے ہیں۔ بتادیں کہ لکھنؤ میں اتوارکو ایجنڈہ یوپی پروگرام کا انعقاد نیوز 18 نے کیا تھا۔ اس میں چینل کے منیجنگ ایڈیٹر امیش دیوگن کے ساتھ انٹرویو میں اکھلیش یادو نے مایاوتی سے آشیرواد مانگا۔ انہیں مایاوتی کے ساتھ ایک تصویر دکھائی گئی اور ان کا ردعمل مانگا گیا۔










