آخر کار کانگریس اور ایس پی کے اتحاد پر مہر لگ گئی۔ اس کے ساتھ ہی امروہہ لوک سبھا سیٹ کانگریس کے کھاتے میں چلی گئی ہے۔ ایس پی اور کانگریس کے اتحاد نے ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ کانگریس موجودہ رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی پر داؤ لگائے گی ان کی کانگریس سے قربت اور لگاتار راہل کے دربار میں حاضری ٹکٹ کی راہ ہموار کرسکتی ہے -حالانکہ ضلع صدر ایس پی کٹاریہ اور راشد علوی کی دعویداری بھی مضبوط مانی جاتی ہے ۔وہ پارٹی کے وفادار رہے ہیں جبکہ دانش بی ایس پی میں تھے ان کو بہن جی نے پارٹی سے نکال دیا ہے ان کے سامنے اور کوئی راستہ بھی نہیں ہیں کہ کہاں جائیں
مانا جا رہا ہے کہ بی ایس پی سے معطلی اور کانگریس سے قربت دانش کی راہ آسان کر سکتی ہے۔ دوسری طرف ایس پی سے ٹکٹ کا دعویٰ کرنے والوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ حال ہی میں، جیسے ہی بی جے پی اور آر ایل ڈی کے درمیان اتحاد کا امکان واضح ہوا، ایس پی اور کانگریس کے درمیان گفتگو شروع ہوگئی۔
دونوں کے درمیان اتحاد کا اعلان بھی بدھ کو کیا گیا۔ امروہہ سمیت 17 لوک سبھا سیٹیں کانگریس کے پاس چلی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امروہہ لوک سبھا سیٹ کے لیے ایک نئی انتخابی بساط بچھائی جائے گی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ضلع میں ایس پی کی حمایت سے کانگریس کو ایک طرح سے لائف لائن مل گئی ہے۔ لیکن کانگریس کس پر داؤ لگائے گی، یہ سب کے سامنے ایک سوال ہے۔ کیا ایس پی سے لائن میں کھڑے دعویدار کانگریس میں شامل ہوں گے یا کانگریس سے کوئی چہرہ سامنے آئے گا؟ دوسری جانب موجودہ رکن کنور دانش علی بھی اس فہرست میں سب سے آگے سمجھے جاتے ہیں۔ حال ہی میں راہل گاندھی سے ان کی ملاقات اور کانگریس کے دورے میں ان کی شرکت ان کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
کانگریس نے ا چار بار قبضہ کیا ہے۔
پچھلے الیکشن کے اعداد و شمار کی بات کریں تو کانگریس نے امروہہ لوک سبھا سیٹ پر چار بار قبضہ کیا ہے۔ مولانا محمد حفظ الرحمن پہلی بار 1952 میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس دوران یہ لوک سبھا سیٹ مرادآباد سینٹرل کے نام سے جانی جاتی تھی۔
اس کے بعد 1957 میں کانگریس نے دوبارہ مولانا محمد حفظ الرحمن کو اپنا امیدوار بنایا۔ اس الیکشن میں بھی کانگریس جیت گئی۔ اس دوران مولانا محمد حفظ الرحمن نے بھارتیہ جن سنگھ کے امیدوار موٹارام کو شکست دی تھی۔
یہی نہیں، تیسری مرتبہ بھی 1962 میں مولانا محمد حفظ الرحمن الیکشن جیت کر لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔ اس دوران انہوں نے جن سنگھ کے ہردیو شاہی کو شکست دی تھی۔ اس کے بعد 1984 میں کانگریس کے امیدوار کے طور پر میدان میں آنے والے رام پال سنگھ ایم پی منتخب ہوئے۔
انہوں نے اپنے حریف آزاد امیدوار عشرت علی انصاری کو شکست دی تھی۔ رامپال سنگھ مرادآباد کے ایم پی کنور سرویش سنگھ کے والد تھے۔
1984 سے اب تک کانگریس امروہہ لوک سبھا حلقہ میں اپنا وجود تلاش کر رہی ہے۔ اس سے قبل سال 1977 میں کانگریس کے امیدوار ستار احمد کو بھارتیہ لوک دل کے امیدوار چندر پال سنگھ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
وہیں سال 1989 میں کانگریس کے امیدوار خورشید احمد کو جنتا دل کے امیدوار ہرگووند سنگھ کے سامنے شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ 1989 کے بعد کانگریس کے امیدوار اپنے حریفوں کا مقابلہ نہیں کر سکے۔دوسری طرف امروہہ میں بھی ایس پی کی کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی ہے۔ 17 لوک سبھا انتخابات میں صرف ایس پی کے پرتاپ سنگھ سال 1996 میں یہاں سے جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں









