اردو
हिन्दी
اپریل 23, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

عزم وحوصلے کا ایک معتبرنام: مفتی محفوظ الرحمٰن عثمانی

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ متفرقات
A A
0
عزم وحوصلے کا ایک معتبرنام: مفتی محفوظ الرحمٰن عثمانی
76
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

شاہنوازبدرقاسمی

سن 2006 کی بات ہے ہم دارالعلوم وقف دیوبند میں سال دوم عربی کے طالب علم تھے، ایک دن ہمارے استاذ محترم نے مجھ سے پوچھا کیا تم مولوی محفوظ الرحمٰن سہرساوی کو جانتے ہو؟ میں نے کہا حضرت جانتے تو نہیں ہے لیکن اب جان جائیں گے، پہر معلومات کرنے پر پتہ چلا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی ہمارے علاقہ کے ایک مشہور عالم دین اور سوپول میں جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ نامی ایک بڑے ادارے کے ذمہ دار ہیں، اسی دوران کسی تقریب میں شرکت کیلئے مفتی صاحب دیوبند تشریف لائے جہاں میری پہلی ملاقات ہوئی اور اس کے بعد دن بدن قریب ہوتے چلے گئے۔
مفتی محفوظ الرحمٰن عثمانی کو گزشتہ پندرہ سالوں میں بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، وہ ہمہ جہت اور انقلابی شخصیت کے مالک تھے ، وہ اپنی ذات میں ایک تحریک اور انجمن تھے، جب بھی ملتے علاقائی مسائل پر ضرور توجہ دلاتے۔
مفتی محفوظ الرحمن عزم اور حوصلے کاایک ایسا معتبر نام ہے جو دنیا کی ایک بڑی آبادی کو فتح کرنے میں کامیاب ثابت ہوئے، انہوں نے ذاتی ترقی کے تمام ترمواقع کو چھوڑ کر ایک ایسے میدان کاانتخاب کیا جہاں مسائل ہی مسائل اور مشکلات ہی مشکلات ہوتے ہیں۔

بہار کے جس پسماندہ اور سیلاب متاثرہ علاقہ سوپول کے مدھوبنی گاؤں میں انہوں نے 1989 میں جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ قائم کیا کبھی تصور بھی نہیں ہوگا کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اسے ایک تناور درخت کی شکل میں دیکھ لیں گے، جامعہ کو دیکھنے کے بعد یقین نہیں ہوتا ہے کہ یہ بہار کا ایک دینی ادارہ ہے، جدید ترین سہولیات سے آراستہ کئی عالیشان عمارتوں کے درمیان جامعہ کی خوبصورت مسجد کو دیکھ کر یقیناً حضرت مفتی صاحب کو دعا دینے پر آپ بھی مجبور ہوجائیں گے۔

جامعہ جائے وقوع کے لحاظ سے بہار کے تین اہم خطے کوسی، سیمانچل اور متھلانچل کو جوڑتا ہے یہ صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ اس علاقہ کے لاکھوں لوگوں کیلئے رشدو ہدایت اور دینی و فکری تربیت کا ایک عظیم مرکز بن چکا ہے جہاں سے کئی کامیاب تحریک کی شروعات ہوئی۔ مفتی صاحب نے اپنے چاہنے اور ماننے والوں کو کبھی مایوس نہیں کیا اور آخرکار طویل جدوجہد کے بعد جنگل میں منگل کرکے دیکھا دیا، وہ ناممکن کو بھی ممکن بنانے کا ہنر جانتے تھے، انہوں نے اپنے دائرہ کار کو اتنا پھیلا لیا تھا کہ یہ طے کرنا مشکل ہے آپ کن کن حلقوں میں کتنا مقبول تھے، وہ روایتی انداز سے ہٹ کر پروفیشنل طریقہ پر کام کرنے کے عادی تھے، ہر کام کیلئے منصوبہ بندی اور خاکہ تیار کرتے اور پھر طے شدہ پلان کے مطابق کام کرتے۔

کوسی کا وہ علاقہ جہاں بڑے بڑے کامیاب نہیں ہوئے مفتی صاحب اپنی حکمت، ٹھوس منصوبہ بندی اور دوراندیشی سے کامیاب ہوگئے۔

مفتی صاحب نے اس علاقہ میں قادیانیت کے خاتمہ، ارتداد کے روک تھام، مکاتب کا نظام اور ضرورت مندوں کی ہرممکن مدد کیلئے جو مثالی کام کئے وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، تدفین کے وقت اس علاقے کے ہزاروں لوگوں کی چیخ و پکار سن کر یقین نہیں ہورہا تھاکہ وہ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کیلئے اس قدر روئیں گے۔

مفتی صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ کام کے افراد کو تلاش کرکے جوڑنے کا تھا، جن سے جو کام لینا چاہتے تھے وہ ضرور لے لیتے تھے، ان کے تعلقات کا اندازہ لگانا مشکل ہے، وہ دور جدید کے تمام تر حالات سے اچھی طرح واقف تھے، کم عرصے میں کئی عظیم خدمات انجام دئیے۔

جب ضلع سوپول کے اطراف میں ایک قادیانی ڈی ایم کی وجہ سے قادیانیت کا فتنہ پھیلنے لگا ،مفتی صاحب ؒ ناموس رسالت کے علمبردار بن کر اس فتنہ کو جڑ سے ختم کرنے کی جو مہم‌چلائی الحمدللہ اس کی برکت کا نتیجہ ہے کہ یہ علاقہ مزید کئی فتنوں سے بچ گیا۔

وہ کم سے کم دنوں میں زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہتے تھے، ہر اچھے کام کا ساتھی بننا چاہتے تھے، بہتر کام کرنے والوں کی مخلصانہ مدد کرتے تھے، وہ خوف زدگی اور مایوسی کے کبھی شکار نہیں ہوئے، تنے تنہا انہوں نے وہ کام کردیکھا دیا جو بڑے بڑے ادارے مل کر نہیں کرپاتی ہے، ان کے اندر ایک جنون تھا وہ جامعۃ القاسم کو جامعہ اکل کوا کی طرح ایک عظیم تعلیمی مرکز کی شکل میں دیکھنا چاہتے تھے، ان کی خواہش اور منصوبہ بندی سے ان کی فکر اور جدوجہد کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، وہ ہمیشہ باصلاحیت نوجوانوں کی قدر کرتے ان سے خوب کام لیتے اور ہرممکن ان کا خیال بھی رکھتے، مفتی صاحب بعض خوبیوں کی وجہ سے کئی حلقوں میں ممتاز تھے، تعلقات نبھانے میں کبھی بخالت سے کام نہیں لیتے، اخلاقی اعتبار سے بہت باذوق اور خوش مزاج ذہن کے تھے، وہ چہرہ شناسی میں مہارت رکھتے تھے۔

جب بھی مفتی صاحب کوئی اہم پروگرام کرتے ضرور میری حاضری ہوتی، اس راستے سے جب جب گذر ہوتا ہرحال میں جامعۃ القاسم میں جانا ہوتا، لاک ڈاؤن کے زمانے میں بھی مفتی صاحب سے کئی ملاقات رہی، ہمیشہ مجھ جیسے چھوٹوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور بنیادی کام پر توجہ دلاتے۔

مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے کئی ایسے بے سہاروں کو سہارا دینے کا کام کیا جو آج کامیاب زندگی جی رہے ہیں، وہ خود بہی ایک عالم دین تھے اور علماء نواز بہی، بہار کے کئی سیاسی لیڈران کی ترقی اور کامیابی میں مفتی صاحب کا اہم کردار ہے، ان کے تعلقات صرف مذہبی علماء سے نہیں بلکہ کئی بڑے سیاسی لیڈران سے بہی تہا، انہوں نے ہمیشہ خود کو ایک دینی ادارہ کا خادم سمجھ کر کام کیا کبہی بہی سیاسی تعلقات کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا-
مفتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ عملی کام پر یقین رکھتے تھے، ان کے پاس ایسے پڑھے لکھے باصلاحیت نوجوانوں کی ایک ایسی ٹیم تھی جو بڑے بڑے اور مشکل سے مشکل مسائل کا آسان حل نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہوں نے صرف جامعہ کی تعمیر وترقی پر توجہ نہیں کی بلکہ اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے بہی ہرممکن کوشش کی_
مفتی صاحب صرف 61سال کی عمر میں اس کورونا وباء کے بہانے اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن انہوں نے جو خدمات اور کارنامے انجام دئیے اس کے ذکر جمیل کیلئے یہ چند سطور نہ کافی ہیں، ہم حضرت مفتی صاحب نوراللہ مرقدہ کے بڑے صاحبزادے اور جامعتہ القاسم کے نائب مہتمم برادرم قاری ظفر اقبال مدنی، معتمد خاص مفتی انصار قاسمی اور بہائی شاہجہاں شاد سمیت تمام محبان جامعہ سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ حضرت مفتی صاحب نے جو خاکہ تیار کیا تہا اس خاکے میں رنگ بھرنا اور اسے ترقی دینا ہی اصل خراج عقیدت اور ان سے سچی محبت ہے، اللہ پاک حضرت مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کے درجات کو بلند فرمائے اور تمام پسماندگان و متعلقین کو صبر دے، خاص طور پر جامعتہ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کو ان کا نعم البدل عطاء فرمائے_

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے چنے کھانے کے بہت سے فائدے ، ۔نیچرل پروٹین سے لے کر فائبر کا خزانہ

11 جولائی
متفرقات

ہیلتھ ٹپس:بھنے ہوئے السی کے بیج صحت کا خزانہ،شوگر، ہائی کولیسٹرول سمیت کئی بیماریوں میں فا ئدے مند

06 جولائی
متفرقات

کارڈیک اریسٹ اور ہارٹ اٹیک میں کیا فرق ہے؟ کیا ہیں علامات و وجوہات ؟ایمرجنسی میں کیا کریں ۔

30 جون
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN