آسام شہریت (ترمیمی) ایکٹ 2019کے خلاف ابل رہا ہے ۔گرچہ اس کے نفاذ سے قبل ہی چنگاریاں سلگ رہی تھیں پوری ریاست میں سی اے اے کے خلاف شدید احتجاج شروع ہو گیا ہے اور مرکزی حکومت نشانے پر ہے –
بتایا جاتا ہے کہ اس کا نفاذ بسوا سرکار کے لئے سب سے پڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (آسو) اور دیگر 30 مقامی تنظیموں نے کل (پیر )کو ریاست کے مختلف حصوں بشمول گوہاٹی، بارپیٹا، لکھیم پور، نلباڑی، ڈبروگڑھ اور تیز پور میں متنازعہ قانون (سی اے اے) کی نقول نذر آتش کیں۔ اس کے علاوہ آسام میں 16 جماعتوں کی متحدہ اپوزیشن (یو او ایف اے) نے مرحلہ وار تحریک کے ایک حصے کے طور پرآج (منگل)ریاست گیرہڑتال و بڑے پیمانے پر مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ آسو کے چیف ایڈوائزر سموجل بھٹاچاریہ نے کہا کہ ہم نے ہر ضلع میں سی اے اے کی کاپیاں جلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نارتھ ایسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (این ای ایس او) کی جانب سے خطے کے تمام ریاستی راجدھانیوں میں سی اے اے کی کاپیاں نذر آتش کی جائیں گی
آسام کی 16 پارٹی یونائیٹڈ اپوزیشن فورم بھی اس میں شریک ہے ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق، ایکٹ کے نفاذ کے بعد اضافی پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ ریاست بھر میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
ریاست کے تمام پولیس اسٹیشنوں کو الرٹ پر رکھا گیا ہے، جبکہ تقریباً تمام قصبوں میں بڑے راستوں پر رکاوٹیں لگا دی گئی ہیں، جہاں دسمبر 2019 میں ایکٹ کی منظوری کے دوران بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا۔ آسو کے مشیر سموجل بھٹاچاریہ نے کہا، ’’ہم سی اے اے کے خلاف اپنی عدم تشدد، پرامن، جمہوری تحریک جاری رکھیں گے۔ ہم اپنی قانونی جنگ بھی جاری رکھیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ منگل کو نارتھ ایسٹ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (این ای ایس او) کی طرف سے خطے کی تمام ریاستی راجدھانیوں میں سی اے اے کی کاپیاں جلائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم آسام میں مشعل بردار جلوس بھی نکالیں گے اور اگلے دن سے ستیہ گرہ شروع کریں گے۔
وہیں، پولیس نے سی اے اے کے خلاف احتجاج میں آسام میں ہڑتال کی کال دینے والی سیاسی جماعتوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا، ’’آپ کے خلاف کارروائی شروع کی جائے گی اور سرکاری اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان کی کل قیمت آپ اور آپ کی تنظیم سے وصول کی جائے گی۔








